عقائد و ایمانیات - اسلامی عقائد

India

سوال # 169932

عرض ہے کہ سائل شادی شدہ ہے اور دو بچے بھی ہیں،دن کی مشغولیات کے بعد رات کو جب زوجہ کے ساتھ خلوت کے وقت کبھی کھبار دل میں شوق پیدا ہوتا کہ تنہا ہو کے اپنے رب کے سامنے گریہ و زاری کروں مگر فیصلہ نہیں کر پاتا ہوں کہ زوجہ کو چھوڈ کر اللہ کے سامنے حاضر ہوں یا پھر زوجہ کا حق ادا کروں۔مہربانی کر کے مسئلہ کے حوالہ سے صحیح رہنمائی فرماویں۔

Published on: May 1, 2019

جواب # 169932

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:889-780/L=8/1440



شریعت نے اس معاملہ میں اعتدال کو پسند کیا ہے ،آدمی کو یہ طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے پوری رات عبادت میں گزارے اور نہ یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے پوری رات سوتا رہے ؛بلکہ رات کو تقسیم کرلینا چاہیے اس طور پر کہ نہ تو حق اللہ ضائع ہو اور نہ حقِ زوجہ ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ شریفہ ابتدائے شب میں آرام فرمانے اور اخیر شب میں اٹھ کر عبادت فرمانے کی تھی ؛لہذا اسی کے مطابق ہم سب کو زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے ،اور اپنی زندگیوں کو اعتدال پر لانے کی کوشش کرنی چاہیے؛البتہ اگر کبھی عبادت کا غلبہ ہو اور آدمی اس کے مطابق عمل کرلے تو مضائقہ نہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات