• عقائد و ایمانیات >> اسلامی عقائد

    سوال نمبر: 1096

    عنوان: اگر کسی کو جادو کے زیر اثر ہونے کا شبہ ہو تو کیا کیا جائے؟جادو کس حد تک خطرناک ہوسکتا ہے؟جادواور اس کے برے اثرات سے نجات کیسے پائیں ؟ آئندہ جادو سے حفاظت رہے، اس کے لیے کیا کیا جائے؟

    سوال: میں جادو کے سلسلے میں جاننا چاہتا ہوں۔ اگر کسی کو جادو کے زیر اثر ہونے کا شبہ ہو تو کیا کیا جائے؟ کیا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ شخص جادو سے متاثر ہے؟جادو کس حد تک خطرناک ہوسکتا ہے؟ جادواور اس کے برے اثرات سے نجات کیسے پائیں ؟ آئندہ جادو سے حفاظت رہے، اس کے لیے کیا کیا جائے؟ ایسے شخص کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے جو جادو کے ذریعہ دوسروں کی زندگی سے کھیلتا ہے ؟ اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟

    جواب نمبر: 109601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 856/ب = 56/تب)

     

    (۱) کسی دین دار پابند شرع عامل کو دکھایا جائے۔

    (۲) جس طرح مرض کی علامات ہوتی ہیں اسی طرح سحر کی بھی علامات ہوتی ہیں، جنھیں دیکھ کر ماہرین فن کو سحر کا اندازہ ہوجاتا ہے۔

    (۳) جادو کے اثر سے انسان کی صحت متاثرہوتی ہے اور بسا اوقات جان بھی چلی جاتی ہے، جمہور علماء اس بات کے بھی قائل ہیں کہ سحر کی تاثیر سے شی کی حقیقت بھی بدل سکتی ہے، موطا امام مالک میں حضرت کعب بن احبار-رضی اللہ عنہ- سے ایک حدیث مروی ہے جو جمہور کی دلیل ہے، حضرت کعب فرماتے ہیں: لو لا کلمات أقولھن لجعلتني الیہود حمارًا (کچھ کلمات ہیں جن کو اگر میں نہ پڑھتا تو یہود مجھے گدھا بنا دیتے)

    (۴) اگر کوئی شخص سحر سے متاثر ہے تو وہ کسی دین دار پابند شرع عامل سے ملے اور علاج کے لیے وہ جو عمل تجویز کرے اس کو کرتا رہے۔

    (۵) اور اگر متاثر تو نہیں لیکن آئندہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ قرآن کریم کی کچھ آیات جو دفع سحر میں موثر ہیں ان کو صبح و شام پڑھ لینا چاہیے۔ ان آیات کو شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمة اللہ علیہ نے ایک منزل کی شکل میں جمع کردیا ہے جسے بہ آسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    (۶) جادو کی حرمت پر تمام ائمہ کا اجماع ہے اگر کسی شخص کے بارے میں معلوم ہوجائے کہ وہ سحر کرتا ہے تو اس سے دور رہے اوراس کے ضرر سے بچنے کے لیے ممکنہ سعی کرے۔ اگر اسلامی حکومت ہو تو ایسے شخص کو قاضی کے سامنے پیش کرے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند