• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 6809

    عنوان:

    حیدرآباد شہر میں مجھے اپنے ایک دوست سے ایک پلاٹ خریدنے کا موقع میسر ہوا ہے۔ لیکن اس کو خریدنے کے لیے میرے پاس پورا روپیہ نہیں ہے۔ میرے پاس کچھ رجسٹرڈ پلاٹ ہیں جن کو میں بینک میں رہن رکھ کرکے بینک سے لون حاصل کرسکتا ہوں۔ اورنیاپلاٹ خریدنے کی ضرورت کی تکمیل کرسکتا ہوں۔پلاٹ کوبینک میں رہن رکھ کرکے بینک سے فنڈ حاصل کرکے نیا پلاٹ خریدنے کے بارے میں علماء کا کیا فتوی ہے؟

    سوال:

    حیدرآباد شہر میں مجھے اپنے ایک دوست سے ایک پلاٹ خریدنے کا موقع میسر ہوا ہے۔ لیکن اس کو خریدنے کے لیے میرے پاس پورا روپیہ نہیں ہے۔ میرے پاس کچھ رجسٹرڈ پلاٹ ہیں جن کو میں بینک میں رہن رکھ کرکے بینک سے لون حاصل کرسکتا ہوں۔ اورنیاپلاٹ خریدنے کی ضرورت کی تکمیل کرسکتا ہوں۔پلاٹ کوبینک میں رہن رکھ کرکے بینک سے فنڈ حاصل کرکے نیا پلاٹ خریدنے کے بارے میں علماء کا کیا فتوی ہے؟

    جواب نمبر: 680901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1515=1215/ ب

     

    بینک میں رہن رکھ کر لون لینے کی صورت میں اگر سود دینا ہوگا تو یہ سودی قرض لینا جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند