• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 6736

    عنوان:

    اگر ہم ایک دکان میں 50,000روپیہ لگاتے ہیں تو سالانہ 25,000روپئے کماتے ہیں۔ اگر ہم 50,000روپیہ سود پر لے کر 1,00000روپیہ لگاتے ہیں تو سالانہ آمدنی بڑھ کر 75,000روپئے بن جاتی ہے۔ تو اس پیسے میں سے کتنا پیسہ حلال اور کتنا حرام ہوگا؟ اس پیسے کو کس طرح بانٹناچاہیے؟

    سوال:

    اگر ہم ایک دکان میں 50,000روپیہ لگاتے ہیں تو سالانہ 25,000روپئے کماتے ہیں۔ اگر ہم 50,000روپیہ سود پر لے کر 1,00000روپیہ لگاتے ہیں تو سالانہ آمدنی بڑھ کر 75,000روپئے بن جاتی ہے۔ تو اس پیسے میں سے کتنا پیسہ حلال اور کتنا حرام ہوگا؟ اس پیسے کو کس طرح بانٹناچاہیے؟

    جواب نمبر: 673601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 675=675/ م

     

    بغیر ضرورتِ شدیدہ سود پر روپیہ لینا بھی حرام و ناجائز ہے، اگر آپ کے پاس دوکان میں لگانے کے لیے پچاس ہزار روپیے موجود ہیں تو مزید پچاس ہزار روپیے سود پر لینا تاکہ سالانہ آمدنی بڑھ جائے، ایسا کرنا صحیح نہیں، حلال طریقے پر آمدنی چاہے تھوڑی ہو اس میں خیر وبرکت ہوتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند