• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 6684

    عنوان:

    کیا ٹیکس بچانے کے لیے لائف انشورنس کراناجائز ہے؟ اور مستقبل کے لیے روپیہ کیسے بچایا جاسکتا ہے؟ مہربانی فرماکرکے اس کا جواب جلد ازجلد بھیج دیں۔

    سوال:

    کیا ٹیکس بچانے کے لیے لائف انشورنس کراناجائز ہے؟ اور مستقبل کے لیے روپیہ کیسے بچایا جاسکتا ہے؟ مہربانی فرماکرکے اس کا جواب جلد ازجلد بھیج دیں۔

    جواب نمبر: 668401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 894=837/ ل

     

    لائف انشورنس میں سود اور قمار (جوا) دونوں کے معنی پائے جاتے ہیں اوردونوں بنص قطعی حرام ہیں، اس لیے لائف انشورنس کرانا بھی حرام ہے، البتہ حکومت کے ٹیکس سے بچنے کے لیے اور اپنی جائز کمائی کو بچانے کی غرض سے لائف انشورنس کرانے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ جمع کردہ رقم سے زائد ملنے والی رقم کو بلانیت ثواب فقراء ومساکین وغیرہ پر صدقہ کردیا جائے۔ اوراگر مجبوری میں ہی سہی ایک حرام کام کاارتکاب کرنا پڑا اس لیے اللہ سے توبہ و استغفار بھی کرلے کیونکہ سودی لین دین پر جو قرآن واحدیث میں وعیدیں مذکور ہیں، وہ انتہائی سخت ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند