• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 6254

    عنوان:

    ہمارا دلی میں ہینڈی کرافٹ کا ایک کاروبار ہے اورہمیں اپنا کاروبار پھیلانا ہے۔ ہم نے فیکٹری بنانے کے لیے ایک زمین خریدی ہے، لیکن ابھی تک تعمیر شروع نہیں ہوئی ہے، کیوں کہ ہمارے پاس پیسوں کی کمی ہے۔ اس وقت ہمارے پاس ایک راستہ ہے کہ ہم کاروباری لون لے لیں تاکہ ہم وہاں کام شروع کرنے کے لیے فیکٹری کی تعمیر کرسکیں۔ کیا ہم لوگ لون لے سکتے ہیں، کیوں کہ کاروبار کے لیے فیکٹری کا تعمیرکرنا بہت ضروری ہے؟

    سوال:

    ہمارا دلی میں ہینڈی کرافٹ کا ایک کاروبار ہے اورہمیں اپنا کاروبار پھیلانا ہے۔ ہم نے فیکٹری بنانے کے لیے ایک زمین خریدی ہے، لیکن ابھی تک تعمیر شروع نہیں ہوئی ہے، کیوں کہ ہمارے پاس پیسوں کی کمی ہے۔ اس وقت ہمارے پاس ایک راستہ ہے کہ ہم کاروباری لون لے لیں تاکہ ہم وہاں کام شروع کرنے کے لیے فیکٹری کی تعمیر کرسکیں۔ کیا ہم لوگ لون لے سکتے ہیں، کیوں کہ کاروبار کے لیے فیکٹری کا تعمیرکرنا بہت ضروری ہے؟

    جواب نمبر: 625401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 955=1025/ د

     

    بینک سے لون لینے کی صورت میں سود کی ادائیگی کرنی ہوگی جس طرح سود کا لینا حرام ہے اسی طرح سود ادا کرنا بھی حرام ہے لہذا لون لینے کا اقدام جائز نہیں ہے، اپنی مالی وسعت کے اندر ہی کاروبار کریں اسی میں گناہ سے حفاظت کے ساتھ برکت و عافیت ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند