• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 5982

    عنوان:

    میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیپٹل گینس ٹیکس (سرمایہ کے منافع کا ٹیکس) ادا کرنے کے لیے سود کا پیسہ استعمال کرنا مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی؟ کیپٹل گینس ٹیکس یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنا مکان بیچتا ہے تو جوپیسہ وہ مکان خریدنے والے سے پاتاہے ، تو مکان بیچنے والے کو گورنمنٹ کو ایک خاص رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ تو کیا گورنمنٹ کو وہ پیسہ ادا کرنے میں سود کا پیسہ استعمال کرنا مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی؟کیوں کہ ایک فتوی میں ٹیکس کے معاملہ میں مفتی صاحب نے ذکر کیا ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس ادا کرنے کے لیے سود کا پیسہ استعمال کرنا مکروہ ہے اس لیے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی؟ برائے کرم جواب کا حوالہ عنایت فرمائیں۔

    سوال:

    میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیپٹل گینس ٹیکس (سرمایہ کے منافع کا ٹیکس) ادا کرنے کے لیے سود کا پیسہ استعمال کرنا مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی؟ کیپٹل گینس ٹیکس یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنا مکان بیچتا ہے تو جوپیسہ وہ مکان خریدنے والے سے پاتاہے ، تو مکان بیچنے والے کو گورنمنٹ کو ایک خاص رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ تو کیا گورنمنٹ کو وہ پیسہ ادا کرنے میں سود کا پیسہ استعمال کرنا مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی؟کیوں کہ ایک فتوی میں ٹیکس کے معاملہ میں مفتی صاحب نے ذکر کیا ہے کہ گورنمنٹ ٹیکس ادا کرنے کے لیے سود کا پیسہ استعمال کرنا مکروہ ہے اس لیے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی؟ برائے کرم جواب کا حوالہ عنایت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 598201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1143=987/ ب

     

    صورتِ مسئولہ میں اگر یہ سودی رقم حکومت کے ٹریزر تک پہنچ جاتی ہے اور آپ کو یہ یقین ہو کہ یہ رقم پہنچ جاتی ہے بلا کسی کراہت کے اس سودی پیسے کو سرمایہ کے منافع کے ٹیکس کی ادائیگی میں استعمال کرسکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند