• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 5864

    عنوان:

    میری عمر32/سال کی ہے اور میں گزشتہ تین سال سے ایک پرائیویٹ کمپنی میں کا م کررہا ہوں۔ بدقسمتی سے میری ماں کا انتقال میرے بچپن میں ہی ہوگیا تھا جب میں صرف سات سال کا تھا، اور 2003 میں میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہوگیا۔ ہم چھ بھائی اوردوبہن ہیں۔ میں شادی شدہ ہوں اور تین بچے ہیں، ہم سب ایک دومنزلہ عمارت میں رہتے ہیں جو کہ گھر والوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ مزید برآں میرے پاس کوئی جائیداد یا بینک بیلنس نہیں ہے۔ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کا رسک بھی لیتا ہوں۔ پرائیویٹ نوکری کی وجہ سے (تنخواہ 17000/-روپیہ ماہانہ)ہے اور میں70000/- روپیہ کا مقروض بھی ہوں جس کومیں دوہزار روپیہ ہر ماہ ادا کرکے جمع کررہاہوں۔ اس لیے مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اور اپنی آگے کی عمر کے لیے لائف انشورنس کی شکل میں کچھ نہ کچھ انتظام بھی کرنا پڑے گا، کیوں کہ اس وقت میں کما سکتا ہوں اور پندرہ اوربیس برس کے بعد میں نہیں جانتا ہوں کہ کیا ہوگا۔ برائے کرم مجھے بتائیں کہ اوپر مذکور حالات میں کیا میرے مذہب کی رو سے یہ جائز ہے، کیوں کہ اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے تومیرے بچوں اوردوسرے افراد خانہ کے لیے کچھ بھی نہیں رہے گا (واللہ اعلم) ۔ برائے کرم میری رہنمائی کریں۔

    سوال:

    میری عمر32/سال کی ہے اور میں گزشتہ تین سال سے ایک پرائیویٹ کمپنی میں کا م کررہا ہوں۔ بدقسمتی سے میری ماں کا انتقال میرے بچپن میں ہی ہوگیا تھا جب میں صرف سات سال کا تھا، اور 2003 میں میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہوگیا۔ ہم چھ بھائی اوردوبہن ہیں۔ میں شادی شدہ ہوں اور تین بچے ہیں، ہم سب ایک دومنزلہ عمارت میں رہتے ہیں جو کہ گھر والوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ مزید برآں میرے پاس کوئی جائیداد یا بینک بیلنس نہیں ہے۔ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کا رسک بھی لیتا ہوں۔ پرائیویٹ نوکری کی وجہ سے (تنخواہ 17000/-روپیہ ماہانہ)ہے اور میں70000/- روپیہ کا مقروض بھی ہوں جس کومیں دوہزار روپیہ ہر ماہ ادا کرکے جمع کررہاہوں۔ اس لیے مجھے اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اور اپنی آگے کی عمر کے لیے لائف انشورنس کی شکل میں کچھ نہ کچھ انتظام بھی کرنا پڑے گا، کیوں کہ اس وقت میں کما سکتا ہوں اور پندرہ اوربیس برس کے بعد میں نہیں جانتا ہوں کہ کیا ہوگا۔ برائے کرم مجھے بتائیں کہ اوپر مذکور حالات میں کیا میرے مذہب کی رو سے یہ جائز ہے، کیوں کہ اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے تومیرے بچوں اوردوسرے افراد خانہ کے لیے کچھ بھی نہیں رہے گا (واللہ اعلم) ۔ برائے کرم میری رہنمائی کریں۔

    جواب نمبر: 586401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 795=853/د

     

    لائف انشورنس سود و قمار پر مشتمل ہوتا ہے جن کی ممانعت نص قطعی آیات قرآنی سے ثابت ہے اس لیے لائف انشورنس کرانا ناجائز و حرام ہے، آپ ہرگز اس طریقہ کو اختیار نہ کریں ۔اللہ تعالی مسبب الاسباب ہے اور رزق کی کنجی اس کے ہاتھ میں ہے، وہی بہترین کارساز ہے، حسب موقع وہ اسباب پیدا فرمادیتا ہے آپ اسی ذات پر بھروسہ رکھیں۔ وعلی اللّٰہ فلیتوکل المومنون۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند