• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 5799

    عنوان:

    چند سالوں پہلے میں اپنا کاروبار شروع کرنے والا تھا۔ اس کاروبار کے لیے مجھے سی ایس ٹی سرٹیفکٹ کے لیے درخواست دینی پڑیگی۔ اس سرٹیفکٹ کے لیے مجھے تین ہزار روپیہ پوسٹ آفس میں جمع کرنا ضروری ہے ۔اوران کا کہنا ہے کہ پانچ سال کے بعد مجھے ۵۲۰۰/روپیہ ملے گا۔ سی ایس ٹی سرٹیفکٹ کی درخواست دینے کے لیے اور پوسٹ آفس میں پیسہ جمع کرنے کے لئے آڈیٹر نے مجھ سے کہا کہ آپ کو آفیسران کو کچھ پیسہ بطور رشوت دینا پڑے گا۔ میں سوچتا ہوں کہ پانچ سال کے بعد مجھے پوسٹ آفس سے پانچ ہزار روپیہ ملے گا اس لیے جو پیسہ وہ مانگتے ہیں مجھے دے دینا چاہیے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ میں پانچ سال کے بعد دوبارہ حاصل کرلوں گا۔ اب پانچ سال کے بعد مجھے وہ پانچ ہزار روپیہ ملااور سود کی رقم دو ہزار مجھے زیادہ ملی ہے۔ کیا یہ میرے لیے حلال ہے یا حرام؟ کیوں کہ میں نے سی ایس ٹی سرٹیفکٹ حاصل کرنے او رکینسل کرانے کے لیے گورنمنٹ آفیسروں کو پیسہ دیا ہے۔

    سوال:

    چند سالوں پہلے میں اپنا کاروبار شروع کرنے والا تھا۔ اس کاروبار کے لیے مجھے سی ایس ٹی سرٹیفکٹ کے لیے درخواست دینی پڑیگی۔ اس سرٹیفکٹ کے لیے مجھے تین ہزار روپیہ پوسٹ آفس میں جمع کرنا ضروری ہے ۔اوران کا کہنا ہے کہ پانچ سال کے بعد مجھے ۵۲۰۰/روپیہ ملے گا۔ سی ایس ٹی سرٹیفکٹ کی درخواست دینے کے لیے اور پوسٹ آفس میں پیسہ جمع کرنے کے لئے آڈیٹر نے مجھ سے کہا کہ آپ کو آفیسران کو کچھ پیسہ بطور رشوت دینا پڑے گا۔ میں سوچتا ہوں کہ پانچ سال کے بعد مجھے پوسٹ آفس سے پانچ ہزار روپیہ ملے گا اس لیے جو پیسہ وہ مانگتے ہیں مجھے دے دینا چاہیے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ میں پانچ سال کے بعد دوبارہ حاصل کرلوں گا۔ اب پانچ سال کے بعد مجھے وہ پانچ ہزار روپیہ ملااور سود کی رقم دو ہزار مجھے زیادہ ملی ہے۔ کیا یہ میرے لیے حلال ہے یا حرام؟ کیوں کہ میں نے سی ایس ٹی سرٹیفکٹ حاصل کرنے او رکینسل کرانے کے لیے گورنمنٹ آفیسروں کو پیسہ دیا ہے۔

    جواب نمبر: 579931-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1271=928/ ھ

     

    پانچ سال کے بعد جمع کردہ رقم پر جو زائد رقم ملے گی وہ سود ہوگی اس کا حکم یہ ہے کہ اس کو غرباء فقراء مساکین محتاجوں کو بلانیت ثواب دینا وبال سے بچنے کی نیت کرکے واجب ہوگا، اس سودی رقم کو پانچ سال پہلے دی ہوئی رشوت کا بدل سمجھ کر آپ کے حق میں وہ حلال نہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند