معاملات - سود و انشورنس

Pakistan

سوال # 176468

میری عمر 42سال ہے میری شادی نہیں ہو سکی میرے والدنے کچھ رقم میرے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرانی ہے اس رقم پہ جو منافع(سود) لگتا ہے کیا میں وہ منافع کی رقم اپنے بہن بھائی کے بچوں پر خرچ کر سکتی ہوں جائز ہے ؟ اور میں اپنے حصہ کی جائداد اپنے نام کروانا چاہتی ہوں لیکن وہ لوگ رشوت کے بغیر کام نہیں کر رے بہت کوشش کی میرے بہن بھائی اپنا حصہ اپنے نام لگوا چکے کیا میں بینک کے منافع کی رقم رشوت میں دے سکتی ہوں کوئی عذرتو نہیں؟

Published on: Feb 6, 2020

جواب # 176468

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 673-517/H=06/1441



بینک کے سود کو رشوت میں دینا جائز نہیں بینک میں جمع کردہ رقم پر اضافی رقم سود ہوتی ہے کہ جو حرام ہے اس کا حکم یہ ہے کہ وہاں سے نکال کر وبال سے بچنے کی نیت کرکے غرباء فقراء مساکین محتاجوں کو بلانیت ثواب دیدی جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات