• معاملات >> سود و انشورنس

    سوال نمبر: 171472

    عنوان: بینک کے توسط سے گھر یا گاڑی لینا

    سوال: زید نئی گاڑی لینا چاہتا ہے لیکن سوائے بینک کے توسط کے اور کوئی صورت نہیں بن رہی دو مرتبہ سیکنڈہینڈ لے کر تجربہ کیا لیکن دونوں دفعہ گاڑی میں کام نکل آیا تو اب کیا زید کے لئے نئی گاڑی بینک کے توسط سے لینا درست ہوگی؟ کیا فرماتے مفتیان کرام ذیل کے مسئلہ میں زید کے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں ہے وہ غیر سودی قرض کے لیے لوگوں کے پاس گیا بھی لیکن امید بر نہیں آئی کسی نے انکار کیا تو کسی نے کہا بھائی آج کے دور میں کس پر بھروسہ کرے اب صرف بینک کا توسط بچتا ہے کیا زید کے لیے بینک کے توسط سے گھر خریدنا جائز ہوگا ؟

    جواب نمبر: 17147201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1264-1116/L=11/1440

    (۱)بینک کے توسط سے گاڑی خریدنے کی صورت میں خرابی یہ ہے کہ بینک ایک مشت رقم کمپنی کو ادا کرکے پھر قسطوار مع سود کے رقم وصول کرتا ہے اور اس طرح معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،یہ سودی معاملہ ہے؛البتہ اگر خود گاڑی کی کمپنی سے براہِ راست ادھار کا معاملہ ہوجائے اور کمپنی نقد کے مقابلے میں کچھ زائد رقم لے کر قسطوں میں رقم وصول کرے ،بشرطیکہ مجلسِ عقد ہی میں ثمن اور مدت کی تعیین ہو جائے تو اس طور پر خریدوفروخت کی گنجائش ہوگی۔

    (۲)سودی قرض لینا حرام ہے قرآن واحادیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں ،ایک حدیث میں آپ ﷺ نے سود لینے ،سود دینے ،سود لکھنے اور اس پر گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی ہے ؛اس لیے حتی الوسع اس سے بچنا ضروری ہے ؛البتہ صورتِ مسئولہ میں اگر زید کے پاس مکان نہیں ہے اور اس کے بغیر گذربسر مشکل ہے اور قرض بغیر سود کے کوئی دینے کے لیے تیار نہ ہو ایسی صورت میں اگر زید بقدرِضرورت سودی قرض لے کر مکان بنوالے تو ممکن ہے کہ وبال نہ ہو ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند