• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 174726

    عنوان: میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کرنا یا منانا کیساہے؟

    سوال: شریعت کے دائرے میں رہ کر میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کرنا یا منانا کیساہے؟

    جواب نمبر: 17472601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 249-226/D=04/1441

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور سیرت مبارکہ کا تذکرہ باعث خیرو برکت ہے اسی طرح نفس ولادت فخر الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مندوب ہے موجب خیرو برکت ہے، لیکن اس کے لئے دن مہینہ متعین کرنا اور اس کا اہتمام کرنا، مردوں عورتوں کا اختلاط کرنا، چراغاں ڈھول باجا کرنا ایسے امور غیر شرعیہ بلکہ بعض منکرات کے ساتھ عید میلاد النبی منانا، ناجائز اور بدعت ہے۔

    فتاوی رشیدیہ میں ہے: انعقاد مجلس مولود بہرحال ناجائز ہے تداعی امر مندوب کے واسطے منع ہے۔ (ص: ۳۰۱)

    اس طرح کی مجلس اور جلوس زمانہ فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم اور زمانہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور زمانہ تابعین و تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کے دور میں نہیں ہوا، اس کا ایجاد چھ سو سال بعد ایک بادشاہ نے کیا جسے اکثر اہل تاریخ فاسق لکھتے ہیں، لہٰذا یہ مجلس بدعت ضلالت ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند