• عقائد و ایمانیات >> بدعات و رسوم

    سوال نمبر: 170563

    عنوان: بارات کا شرعاً كوئی ثبوت نہیں

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ بارات لے جانا کیسا ہے؟ میرے دل تھا کہ صرف کچھ لوگ جاتے اور نکاح پڑھاکے لے آتے ، پر میرے ابو امی اور کئی لوگ بارات لے جانے کو تیار ہیں، فون کرکے کچھ لوگوں نے سامنے ہی کہا ہے کہ بارات لے جائیں گے، ہم ہیں مان رہے تھے، ہمیں مناتے مناتے میری امی کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، اب آپ بتائیں کہ ہم کیا کریں؟ ہر کوشش کرکے ہار گئے ، پر بات نہیں بنی ۔

    جواب نمبر: 17056331-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1046-905/L=09/1440

    بارات کے تعلق سے آپ کی سوچ درست ہے بارات کا شرعاً ثبوت نہیں ہے اور اس میں دیگر قباحتیں بھی ہیں تفصیل کے لئے اصلاح الرسوم اور بہشتی زیور کا مطالعہ کر لیا جائے، آپ اپنی حد تک ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اس سے منع کرتے رہیں اور ہوسکے تو کسی بڑے عالم سے اپنے والد کی بات کرادیں جو آپ کے والد کو اچھی طرح سے سمجھا سکیں، اور اگر آپ اپنی حد تک کوشش کر لیتے ہیں تو آپ معذور شمار ہوں گے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند