• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 535

    عنوان:

    اگر دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے والدین اپنے بچوں کے درمیان دولت اور زمین کی تقسیم میں امتیازی سلوک کریں اور بیٹے کو (جو کہ زندہ ہو) بہت ہی کم حصہ دیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ گناہ نہیں ہے؟ والدین کو عذاب خداوندی سے بچانے کے لیے بچوں کو کیا کرنا چاہیے؟  (2) اگر وہ (بچے) سارے اثاثے کو دوبارہ ممکنہ حد تک باہم مساوی طورپر تقسیم کرلیں تو کیا اس سے والدین عذاب الہی سے محفوظ ہوجائیں گے؟  (3) کیا اولاد کے اس عمل سے ان کو ثواب ملے گا؟

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ اگر دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے والدین اپنے بچوں کے درمیان دولت اور زمین کی تقسیم میں امتیازی سلوک کریں اور بیٹے کو (جو کہ زندہ ہو) بہت ہی کم حصہ دیں، تو اس کا کیا حکم ہے؟

    (1)     کیا یہ گناہ نہیں ہے؟والدین کو عذاب خداوندی سے بچانے کے لیے بچوں کو کیا کرنا چاہیے؟

    (2)     اگر وہ (بچے) سارے اثاثے کو دوبارہ ممکنہ حد تک باہم مساوی طورپر تقسیم کرلیں تو کیا اس سے والدین عذاب الہی سے محفوظ ہوجائیں گے؟

    (3)     کیا اولاد کے اس عمل سے ان کو ثواب ملے گا؟

    والسلام

    جواب نمبر: 53501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 282/م=272/م)

     

    (1)  باپ کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے درمیان عدل و مساوات کا برتاوٴ کرے اولاد خواہ مذکر ہوں یا موٴنث، بلا کسی وجہ شرعی کے امتیازی سلوک درست نہیں، ہاں اگر ایک کو کم دوسرے کو زیادہ دینے میں پہلے کا اضرار مقصود نہ ہو اور دوسرے کو ضرورت زیادہ ہو یا کوئی اور شرعی وجہ ہو تو بخشش و عطایا میں اولاد کے درمیان کمی زیادتی کی گنجائش ہے کما في الشامي وغیرہ من کتب الفقہ۔

    (2) جی ہاں! اگر بچے (مذکر و موٴنث) باپ کے انتقال کے بعد باہم رضامندی سے جائداد مساوی طور پر تقسیم کرلیں تو امید ہے کہ ان شاء اللہ مواخذہ سے بچ جائیں گے۔

    (3) یہ عمل تو صرف دفع وبال اور گناہ کو ختم کرنے کے لیے ہوگا، اس کے علاوہ اگر ان کے نام سے ایصال ثواب کرے گا تو ثواب بھی ملے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند