معاملات - وراثت ووصیت

Pakistan

سوال # 176561

سوال ایک شخص کی بیوی فوت ہو گئی اس سے ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی اس شخص نے دوسری شادی کرلی دوسری بیوی سے 4 بیٹے 3 بیٹیاں ہیں اب اس شخص کا انتقال ہوگیا اس کی بیوہ نے دوسرا نکاح کرلیا مرحوم کے چھوٹے بھائی کے ساتھ اس شخص کی ملکیت میں 80 گز کے دو پلاٹس تھے اس نے اپنی زندگی میں ایک پلاٹ فروخت کر کے ایک پلاٹ پر چار منزلہ مکان تعمیر کیا معلوم یہ کرنا ہے پہلی بیوی سے اولاد کا وارثت میں کیا حصہ بنتا ہے اور دوسری سے اولاد کا حصہ کیا بنتا ہے؟
برائے مہربانی اسلامی تعلیمات کے مطابق رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Feb 9, 2020

جواب # 176561

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 714-535/H=06/1441



بعد اداءِ حقوق متقدمہ علی المیراث وصحت تفصیل ورثہ شخص مرحوم کا کل مالِ متروکہ (مکان چار منزلہ اور اس کے علاوہ تمام املاک) سولہ (16) حصوں پر تقسیم کرکے دو (2) حصے مرحوم کی زوجہٴ ثانیہ باحیات کو اور دو دو (2-2) حصے مرحوم کے پانچوں بیٹوں کو ملیں گے اور ایک ایک (1-1) حصہ چاروں بیٹیوں کو ملے گا۔ بیوہ کے دوسرا نکاح اپنے دیور سے کر لینے کی وجہ سے وہ (زوجہٴ ثانیہ باحیات ) اپنے شوہر مرحوم کے ترکہ و میراث میں سے اپنے حصہٴ شرعیہ سے محروم نہ ہوگی۔       التخریج



شخص مرحوم میت:۔              کل حصے   =           16



-------------------------



زوجہٴ ثانیہ باحیات    =           2



بیٹا          =           2



بیٹا          =           2



بیٹا          =           2



بیٹا          =           2



بیٹا          =           2



بیٹی         =           1



بیٹی         =           1



بیٹی         =           1



بیٹی         =           1



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات