• معاملات >> وراثت ووصیت

    سوال نمبر: 1015

    عنوان: عرض یہ ہے کہ پنجاب میں بہن اپنے باپ کی جائداد کا حصہ اپنے بھائی کو دیدیتی ہے ، تو کیا اس میں بہن کی اولاد کی حق تلفی نہیں ہوتی؟

    سوال: عرض یہ ہے کہ پنجاب میں بہن اپنے باپ کی جائداد کا حصہ اپنے بھائی کو دیدیتی ہے ، تو کیا اس میں بہن کی اولاد کی حق تلفی نہیں ہوتی؟

    جواب نمبر: 101501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  407/م = 403/م)

     

    بہن اپنے باپ کی موروثی جائداد سے متعینہ حصہ پانے اوراس پر قابض ہونے کے بعد وہ حصہ اپنے بھائی کو دے سکتی ہے، اس میں اولاد کی حق تلفی نہیں، اس لیے کہ آدمی کو اپنی ملکیت میں ہرطرح کے تصرف کا اختیار ہوتا ہے چاہے اس کو فروخت کردے، وقف کردے یا کسی کو ہبہ کردے وغیرہ۔ ہاں البتہ جب آدمی زندگی کی اس منزل کو پہنچ جائے جس میں ہوش و حواس صحیح نہ رہیں یعنی مرض وفات میں مبتلا ہوجائے تواب ورثہ کا حق اس کے مال سے متعلق ہوجاتا ہے اور آدمی کو اپنے کل مال کے بجائے صرف ایک تہائی مال میں تصرف کا اختیار باقی رہ جاتا ہے۔ اس موقع پر اختیار سے زائد تصرف کرنا درست نہیں ہوتا، تاہم صورت مسئولہ میں اپنے بھائی کو دینے سے زیادہ ثواب اپنی اولاد کو دینے اور ان پر خرچ کرنے میں ہے، مگر یہ کہ بھائی زیادہ محتاج و ضرورت مند ہو تو بھائی کو دینا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند