• متفرقات >> تاریخ و سوانح

    سوال نمبر: 152019

    عنوان: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب نامہ حضرت آدم علیہ السلام تک بیان کرنا

    سوال: ایک ہمارے مشہور عالم دین ہیں مولانا طارق جمیل صاحب (دامت برکاتہم) ، جن کے بیانات کافی مشہور ہیں۔ لیکن حضرت کی ایک بات بڑی عجیب ہے کہ وہ اکثر اپنے بیان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ حضرت آدم علیہ السلام تک پورا بیان کرتے ہیں، جب کہ ہم نے مکتب میں معاذ بن عدنان تک پڑھا تھا اور یہیں تک علماء سے سنا ہے۔ کیا ان کا ایسا کرنا صحیح ہے؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نصب حضرت آدم علیہ السلام تک پورا محفوظ ہے؟ اگر نہیں، تو ان کا بیان کرنا کیسا ہے؟

    جواب نمبر: 15201901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 917-854/sd=9/1438

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عدنان تک سلسلہ نسب تمام نسب دانوں کے نزدیک مسلم ہے، کسی کا اس میں اختلاف نہیں ہے، اس سے آگے کے نسب میں اختلاف ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس رضي الله عنه  سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نسب شریف کو بیان فرماتے تھے، تو عدنان سے تجاوز نہ فرماتے، امام بخاری  رحمه الله  نے بخاری شریف میں عدنان تک سلسلہ نسب بیان کیا ہے اور علامہ سہیلی فرماتے ہیں کہ امام مالک رحمه الله  سے سوال کیا گیا کہ کسی شخص کا اپنے سلسلہ نسب کو حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچانا کیسا ہے ؟ تو امام مالک رحمه الله نے ناپسند فرمایا( سیرة المصطفی :۱۹/۱) اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب عدنان ہی تک بیان کرنا چاہیے، حضرت آدم علیہ السلام تک بیان کرنا احتیاط کے خلاف ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند