• متفرقات >> حلال و حرام

    سوال نمبر: 212

    عنوان:

    ٹی وی پر اسلام کی طرف دعوت دینے کا کیا حکم ہے؟ مثلاً پیس ٹی وی ، یہ بہترین اسلامی چینل ہے اور ہزاروں غیر مسلمین ڈاکٹر ذاکر نائک سے سوالات کرتے ہیں اور اسلام سے قریب آتے ہیں۔ حالاں کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فرمایا تھا کہ ٹی وی نجس العین ہے۔لیکن اب اگر کوئی ٹی وی پر دعوت اسلام دیتا ہے تو کیا وہ گنہہ گار ہوگا یا شریعت اسلامیہ کی رو سے ایسا کرنا جائز ہے؟

    سوال:

    ٹی وی پر اسلام کی طرف دعوت دینے کا کیا حکم ہے؟ مثلاً پیس ٹی وی ، یہ بہترین اسلامی چینل ہے اور ہزاروں غیر مسلمین ڈاکٹر ذاکر نائک سے سوالات کرتے ہیں اور اسلام سے قریب آتے ہیں۔ حالاں کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فرمایا تھا کہ ٹی وی نجس العین ہے۔لیکن اب اگر کوئی ٹی وی پر دعوت اسلام دیتا ہے تو کیا وہ گنہہ گار ہوگا یا شریعت اسلامیہ کی رو سے ایسا کرنا جائز ہے؟ شکریہ!

    جواب نمبر: 212

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 343/ب=336/ب)

     

    جس طرح شراب تمام خبائث کا مجموعہ ہے، اسی طرح ٹی وی تمام فواحش کا مجموعہ ہے۔ یہ آلہ لہو و لعب ہے۔

    اس نے سنیما کی جگہ لے لی ہے۔ اسلام کے مقدس احکامات و ہدایات اور تعلیمات کو فواحش کے مجموعہ کے ذریعہ پیش کرنا یہ اسلام کی اور اس کے احکامات کی توہین ہے اور بے ادبی ہے۔ اغیار ہمارے اسلام اور اسلامیات کو لہو و لعب کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔ یہ اسلامی حمیت و غیرت کے سخت خلاف ہے، ڈاکٹر ذاکر نائک صاحب اہل حق اور قابل اعتماد عالم نہیں ہیں۔ اس لیے ان کی باتیں سننے سے مسلمانوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند