• عبادات >> حج وعمرہ

    سوال نمبر: 1006

    عنوان: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہٴ ذیل کے بارے میں کہ زینب ایک بیوہ ہے۔ وہ اپنی بہو یا داماد کے والدین کے ساتھ حج کو جانا چاہتی ہیں۔ ان کا بیٹا اور داماد معاشی طور پر اس قابل نہیں کہ وہ انھیں حج کرانے لے جائیں۔ از روئے شریعت اس صورت حال میں کیا اپنی بہو یا داماد کے والدین کے ساتھ ان کا حج میں جانا جائز ہوگا؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہٴ ذیل کے بارے میں کہ زینب ایک بیوہ ہے۔ وہ اپنی بہو یا داماد کے والدین کے ساتھ حج کو جانا چاہتی ہیں۔ ان کا بیٹا اور داماد معاشی طور پر اس قابل نہیں کہ وہ انھیں حج کرانے لے جائیں۔ از روئے شریعت اس صورت حال میں کیا اپنی بہو یا داماد کے والدین کے ساتھ ان کا حج میں جانا جائز ہوگا؟

    جواب نمبر: 100601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 292/د = 285/د)

     

    بغیر محرمِ شرعی کے حج کا سفر کرنا جائز نہیں ہے گناہ ہے۔ حدیث پاک میں صراحةً اس سے منع کیا گیا ہے۔ صورت مسئولہ میں داماد کے والد، زینب کے محرم شرعی نہیں ہیں؛ اس لیے ان کے ساتھ حج کرنا جائز نہیں ہے، بغیر محرم کے عورت پر حج فرض نہیں ہوتا؛ لہٰذا زینب کو چاہیے کہ وہ انتظار کرے آئندہ کوئی محرم مل جائے تو اس کے ساتھ چلی جائے گی یا پھر اخیر میں حج بدل کی وصیت کردے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند