عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 170659

ایک حدیث کی رو سے حضور اکرم نے نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی، مگر اس معاملے میں عین سنت کیا ہے؟ خود اللہ کے رسول، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رض ان حضرات نے بھی نکاح سے پہلے اپنی منکوحات کو ایک نظر دیکھا ہے ؟ کیا کوئی صحابء رسول ایسے ہیں جن کا نکاح اپنی منکوحہ سے بغیر دیکھے ہوا ہو؟ اس معاملہ میں سنت رسول اور سلف صالحین کے طریقہ اور تقوی کی رو سے روشنی ڈالیں۔

Published on: Jul 7, 2019

جواب # 170659

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1063-156/L=10/1440



رسول اللہ ﷺ نے نکاح سے پہلے لڑکی کودیکھنے کی ترغیب دی ہے اور اس کی حکمت بھی بتلائی ہے ؛چنانچہ حضرت مغیرةسے روایت ہے کہ انھوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا ہے تو آپ ﷺ نے پوچھا :کیا تم نے اس کو دیکھا ہے ؟میں نے جواب دیا نہیں ،تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کو دیکھ لو ؛کیونکہ یہ تمھارے درمیان محبت باقی رکھنے کے لیے زیادہ مناسب ہے ،ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ ایک عورت نے نکاح کی غرض سے اپنے آپ کو آپﷺ پر پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کودیکھا (البتہ شادی نہیں کی) اس طرح کی احادیث کی بناپر علماء نے صراحت کی ہے کہ نکاح سے پہلے لڑکی کودیکھ لینا مستحب ہے اوراگر دیکھنا ممکن نہ ہو تو کسی عورت کو بھیج دے جواس کی ہیئت کو اس کے سامنے بیان کردے؛ البتہ اس سلسلے میں خلفائے اربعہ کا کیا عمل تھا اس کی صراحت مجھے کتبِ احادیث میں نہیں ملی ،اور قولی احادیث کے ہوتے ہوئے اس کی ضرورت بھی نہیں؛البتہ بعض صحابہ کرام کے بارے میں ہے کہ انھوں نے نکاح سے پہلے مخطوبہ کو دیکھا ہے ؛چنانچہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ،حضرت جابر اور حضرت محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہم کے اسماء اس سلسلے میں کتبِ احادیث میں مذکور ہیں :



عن المغیرة بن شعبة، قال: خطبت امرأة، فقال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: " أنظرت إلیہا؟ " قلت: لا قال: " فانظر إلیہا، فإنہ أحری أن یؤدم بینکما "(مسند أحمد ط الرسالة 30/ 88،الناشر: مؤسسة الرسالة) عن أبی ہریرة، قال: کنت عند النبی صلی اللہ علیہ وسلم، فأتاہ رجل فأخبرہ أنہ تزوج امرأة من الأنصار، فقال لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: أنظرت إلیہا؟ ، قال: لا، قال: فاذہب فانظر إلیہا، فإن فی أعین الأنصار شیئا(صحیح مسلم 2/ 456، باب ندب النظر إلی وجہ المرأة وکفیہا لمن یرید تزوجہا) عن سہل بن سعد، أن امرأة جاء ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فقالت:یا رسول اللہ، جئت لأہب لک نفسی، فنظر إلیہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصعد النظر إلیہا وصوبہ، ثم طأطأ رأسہ، فلما رأت المرأة أنہ لم یقض فیہا شیئا جلست...(صحیح البخاری : 768،باب النظر إلی المرأة قبل التزویج) عن جابر بن عبد اللہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا خطب أحدکم المرأة، فإن استطاع أن ینظر إلی ما یدعوہ إلی نکاحہا فلیفعل ، قال: فخطبت جاریة فکنت أتخبأ لہا حتی رأیت منہا ما دعانی إلی نکاحہا وتزوجہا فتزوجتہا.(سنن أبی داود :284،باب فی الرجل ینظر إلی المرأة وہو یرید تزویجہا) وفیہ استحباب النظر إلی وجہ من یرید تزوجہا وہو مذہبنا ومذہب مالک وأبی حنیفة وسائر الکوفیین وأحمد وجماہیر العلماء (شرح النووی علی مسلم: 1/456)وفی المرقاة: وفیہ استحباب النظر إلیہا قبل الخطبة، حتی إن کرہہا ترکہا من غیر إیذاء بخلاف ما إذا ترکہا بعد الخطبة، وإذا لم یمکنہ النظر استحب أن یبعث امرأة تصفہا لہ.(مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 6/195،ط:امدادیة باکستان )



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات