عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 170451

صحیح بخاری میں باب لا طلاق قبل النکاح میں حضرت ابن عباس کا قول کہ اللہ نے طلاق کو نکاح کے بعد رکھا ہے ، سند بیان نہیں کی گئی صرف قال سے بات شروع کی ہے کیا یہ روایت صحیح کہلائے گی ؟اس طرح 100 سے زائد تابعین کے نام لکھے ہوئے ہیں ۔ کیا یہ روایت صحیح ہے ؟

Published on: Jul 3, 2019

جواب # 170451

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 856-868/M=10/1440



لا طلاق قبل النکاح کی روایت تو صحیح سند کے ساتھ بھی ثابت ہے لہٰذا امام بخاری کی بیان کردہ بغیر سند والی روایت (حضرت ابن عباس کا قول) بھی معتبر ہے کیونکہ بخاری شریف کتب صحاح میں سے ہے اگر اس میں کسی صحابی یا تابعی کا اثر بغیر سند کے بیان کیا گیا ہے اور وہ صحیح روایت کے معارض نہیں ہے تو وہ اثر بھی معتبر اور قابل قبول ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات