عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

Pakistan

سوال # 170357

جن روایات میں ذکر ہے کہ نبی علیہ السلام سے کسی نے کوئی غیر معمولی سوال کیا اور آپ نے بغیر توقف کیے جواب عرض کر دیا (اور روایت میں وحی کے آنے کا ذکر بھی نہیں ) تو یہ جوابات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کس علم کی بنیاد پر عرض فرمائے ؟ مثلاً بخاری میں ہے نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھ سے جو چاہے پوچھ لو ، یہ دعویٰ ہی علم کی دلیل ہے اور پھر عبداللہ بن حذافہ نے پوچھا کہ میرا باپ کون ہے تو آپ نے اسے بتا دیا ایک اور نے اپنے باپ کا پوچھا تو آپ نے بتایا کہ ابوک سالم مولیٰ شیبہ ۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار روایات ہیں ۔

Published on: Jul 7, 2019

جواب # 170357

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:982-917/L=10/1440



آپ ﷺ کا اس طرح جواب دینا بربنائے وحی تھا یہ ممکن ہے کہ اس وقت حجابات منکشف ہوگئے ہوں ،اس کے علاوہ آپ ﷺ نے اپنے علم کے مطابق جو جوابات دیے ہیں ان کے بارے میں دو احتمال ہیں یا تو آپ ﷺ کی طرف اس کی وحی کی گئی ہو یا آپ ﷺ نے اجتہاداً بتلایا ہو؛ البتہ نبی کا اجتہاد بھی وحی ہوتا ہے،بایں طور اگر نبی سے اجتہاد میں چوک ہوتی ہے تو وحی سے اس کی اصلاح کردی جاتی ہے ۔



قولہ: (سلونی) جملة من الفعل والفاعل والمفعول. قال بعض العلماء: ہذا القول منہ، علیہ الصلاة والسلام، محمول علی أنہ أوحی إلیہ بہ، إذ لا یعلم کل ما یسأل عنہ من المغیبات إلا بإعلام اللہ تعالی.(عمدة القاری شرح صحیح البخاری 2/ 114) فإن قلت: من أین عرف رسول اللہ، علیہ الصلاة والسلام، أنہ ابنہ؟ قلت: إما بالوحی، وہو الظاہر، أو بحکم الفراسة، أو بالقیاس، أو بالاستلحاق.(عمدة القاری شرح صحیح البخاری 2/ 114)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات