عقائد و ایمانیات - حدیث و سنت

India

سوال # 170108

طبرانی کی حدیث کہ حضرت ابو ہریرہ نے بازار میں جاکر اعلان کیا کہ مسجد میں نبی کی میراث تقسیم ہورہی ہے اس حدیث کی صحیح تشریں فرمائیں۔(۱) کیا ابو ہریرہ مسجد ہی سے بازار میں آئے تھے اس اعلان کے لیے؟ (۲) استقبال میں کسے کھڑا کیا تھا (کون تھا استقبال میں) ،(۳) کیا یہ عمل صرف دعوت تعلیم استقبال تھا ؟(۴) اس حدیث کی صحیح تشریح فرمائیں۔

Published on: May 19, 2019

جواب # 170108

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:881-143T/sn=9/1440



طبرانی کی اس حدیث کا متن یہ ہے:



حدثنا أحمد قال: نا علی بن محمد بن أبی المضاء قال: کتبت من کتاب خلف بن تمیم، عن علی بن مسعدة قال: نا عبد اللہ الرومی، عن أبی ہریرة، أنہ مر بسوق المدینة، فوقف علیہا، فقال: ”یا أہل السوق، ما أعجزکم“ قالوا: وما ذاک یا أبا ہریرة؟ قال: ”ذاک میراث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقسم، وأنتم ہاہنا لا تذہبون فتأخذون نصیبکم منہ“ قالوا: وأین ہو؟ قال: ”فی المسجد“ فخرجوا سراعا إلی المسجد، ووقف أبو ہریرة لہم حتی رجعوا، فقال لہم: ”ما لکم؟“ قالوا: یا أبا ہریرة فقد أتینا المسجد، فدخلنا، فلم نر فیہ شیئا یقسم. فقال لہم أبو ہریرة: ”أما رأیتم فی المسجد أحدا؟“ قالوا: بلی، رأینا قوما یصلون، وقوما یقرء ون القرآن، وقوما یتذاکرون الحلال والحرام، فقال لہم أبو ہریرة: ”ویحکم، فذاک میراث محمد صلی اللہ علیہ وسلم“ . ”لم یرو ہذا الحدیث عن عبد اللہ بن الرومی إلا علی بن مسعدة“(المعجم الأوسط 2/ 115)



اور مرقات شرح مشکات میں ایک جگہ ان الفاظ سے اس کی ترجمانی کی گئی ہے:



ویذکر عن أبی ہریرة - رضی اللہ عنہ - أنہ مر یوما فی السوق بقوم مشتغلین بتجاراتہم فقال: أنتم ہاہنا، ومیراث رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - یقسم فی المسجد؟ فقاموا سراعا إلیہ فلم یجدوا فیہ إلا القرآن والذکر ومجالس العلم فقالوا: أین ما قلت یا أبا ہریرة؟ فقال: ہذا میراث محمد - صلی اللہ علیہ وسلم - یقسم بین ورثتہ ولیس بمواریثہ دنیاکم (وإنما ورثوا العلم) : لإظہار الإسلام ونشر الأحکام، أو بأحوال الظاہر والباطن علی تباین أجناسہ واختلاف أنواعہ إلخ(مرقاة المفاتیح شرح مشکاة المصابیح 1/ 297، دار الفکر، بیروت لبنان)



حدیث مذکور کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز حضرت ابو ہریرہبازار سے گزر رہے تھے کہ دیکھا کہ کچھ لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہیں تو آپ نے ا ن سے فرمایا: تم لوگ یہاں ہواور مسجد میں اللہ کے رسول ﷺ کی میراث تقسیم ہورہی ہے، تو وہ لوگ مسجد کی طرف نکلے، وہاں جا کے دیکھا کہ کچھ لوگ نمازوں میں مشغول تھے تو کچھ تلاوت میں اور کچھ حضرات حلال وحرام کا مذاکرہ کررہے تھے یعنی شرعی مسائل کا مذاکرہ ہورا تھا، جب لوگوں نے حضرت ابو ہریرة سے دریافت کیا کہ آپ نے جو کہا تھا یعنی تقسیم میراث کی بات وہ کہاں ہے؟ تو آپ نے فرمایا : اللہ کے رسول ﷺ کی میراث یہی تو ہے یعنی نماز ، تلاوت، اوردینی مسائل کا مذاکرہ ۔ اس حدیث میں اس مشہور روایت کی تشریح بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ علما انبیا کے وارث ہیں؛ لیکن وہ مال کے وارث نہیں ہیں ؛ بلکہ علم دین کے وارث ہیں ، اس کی نشر اشاعت انہی کی ذمے داری ہے، چناچہ صاحب مرقات نے اسی حدیث کی تشریح کے تحت اسے نقل کیا ہے۔



 اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ استقبال کے لیے کسے کھڑا کیا گیا تھا اور نہ یہ مذکور ہے کہ حضرت ابو ہریرة مسجد سے بازار گئے تھے، ممکن ہے وہ مسجد سے گیے ہوں، یہ بھی ممکن ہے کہ مسجد کے پاس سے جب وہ گز رہے تھے تب انھوں نے یہ معمول دیکھا نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روزانہ کے معمول کے پیشِ نظر انھوں نے یہ بات کہی ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات