• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 168911

    عنوان: عمامہ کا شملہ سرین سے نیچے لٹکانے کا حکم

    سوال: میرا سوال یہ ہے کہ کیا عمامہ کا شملہ سرین یا کمر سے نیچے لٹکانا بدعت ہے ؟ اگر ایسا نہیں تو پھر اسکا کتنا نیچے لٹکانا جائز ہے ؟

    جواب نمبر: 16891101-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 712-676/H=07/1440

    جی ہاں عمامہ کا شملہ سرین کے نیچے لٹکانا بڑا گناہ، اور آخرت میں اللہ تعالی کے غضب کا موجب ہے، حدیث شریف میں ہے الإسبال في الإزار والقمیص والعمامة، من جرّ منہا شیئا خیلاء لم ینظر اللہ إلیہ یوم القیامة (رواہ أبوداوٴد: ۴۹۴) البتہ سرین کے اوپر تک رکھنے کی اجازت ہے، اور اس میں علماء کے تین قول ہیں:

    (۱) وسط ظہر ۔ (۲) موضع جلوس ۔ (۳) ایک بالشت ۔ (فتاویٰ دارالعلوم: ۱۶/۱۶۴) ۔ وإرسال ذنب العمامة بین کتفیہ إلی وسط الظہر ، وقیل لموضع الجلوس ، وقیل شبر (الدر مع الرد: ۱۰/۴۸۶، کتاب الخنثی، مسائل شتی) اور ان تینوں مقداروں کے اندر بہتر وہ ہے جو معتاد ہو، اس لئے کہ بعض شراح حدیث نے معتاد سے زائد کو مطلقاً اسبال میں شمار کیا ہے ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند