• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 168089

    عنوان: موزوں پر مسح كے سلسلے میں ایك حدیث كی تحقیق؟

    سوال: حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَیْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ سُفْیَانَ، عَنْ أَبِی قَیْسٍ، عَنْ ہُزَیْلِ بْنِ شُرَحْبِیلَ، عَنْ الْمُغِیرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ . قَالَ أَبُو عِیسَی: ہَذَا حَسَنٌ صَحِیحٌ، وَہُوَ قَوْلُ غَیْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ، وَبِہِ یَقُولُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ، وَابْنُ الْمُبَارَکِ، وَالشَّافِعِیُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: یَمْسَحُ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَإِنْ لَمْ تَکُنْ نَعْلَیْنِ إِذَا کَانَا ثَخِینَیْنِ، قَالَ: وَفِی الْبَاب عَنْ أَبِی مُوسَی. قَالَ أَبُو عِیسَی: سَمِعْت صَالِحَ بْنَ مُحَمَّدٍ التِّرْمِذِیَّ قَال: سَمِعْتُ أَبَا مُقَاتِلٍ السَّمَرْقَنْدِیَّ، یَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَی أَبِی حَنِیفَةَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَعَلَیْہِ جَوْرَبَانِ، فَمَسْحَ عَلَیْہِمَا، ثُمَّ قَالَ: فَعَلْتُ الْیَوْمَ شَیْئًا لَمْ أَکُنْ أَفْعَلُہُ، مَسَحْتُ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَہُمَا غَیْرُ مُنَعَّلَیْنِ اس کی تشریح میں یہ ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ نے اپنے پاتاھے پر مسح کیا اور کہا کہ آج میں وہ کام کر رہاہوں جو میں نے پہلے نہیں کیا ۔ کیا آپ اس کی مکمل تفصیل سے بیان کر سکتے ہیں؟ اور اس کو وجہ بنا کر موزے پر مسح کیا جاسکتا ہے ؟

    جواب نمبر: 16808901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 545-210T/H=01/1441

    مذکورہ حدیث میں جورب پر مسح کا بیان ہے جورب سوت یا اون کے موزوں کو کہتے ہیں، اگر ایسے موزوں پر دونوں طرف چمڑا بھی چڑھا ہوا ہو تو اس کو مجلد کہتے ہیں، اور اگر صرف نچلے حصے میں چمڑا چڑھا ہوا ہو تو اس کو منعل کہتے ہیں، اور اگر موزے پورے کے پورے چمڑے کے ہوں یعنی سوت وغیرہ کا ان میں کوئی دخل نہ ہو تو ایسے موزوں کو خفین کہتے ہیں۔

    خفین، جوربین مجلدین اور جوربین منعلین پر بالاتفاق مسح جائز ہے، اور اگر جورب مجلد یا منعل نہ ہو اور رقیق ہو یعنی اس میں ثخین کے شرائط نہ پائے جاتے ہوں تو ان پر مسح بالاتفاق ناجائز ہے؛ البتہ جوربین غیر مجلدین وغیر منعلین ثخینین پر مسح کرنے میں اختلاف ہے۔ ثخین کا مطلب یہ ہے کہ ان میں تین شرائط پائی جاتی ہوں۔

    (۱) ان میں تتابع مشی ممکن ہو ایسے موزوں کے بارے میں کچھ اختلاف ہے، جمہور یعنی ائمہ ثلاثہ اور صاحبین کا مسلک یہ ہے کہ ان پر مسح جائز ہے، امام صاحب کا اصل مسلک عدم جواز کا ہے، لیکن صاحب بدائع اور صاحب ہدایہ وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ امام صاحب نے آخر میں جمہور کے مسلک کی طرف رجوع کر لیا تھا (درس ترمذی: ۱/۳۳۵)

    ولا یجوز المسح علی الجوربین عند أبي حنیفة إلا أن یکونا مجلدین أو منعلین وقالا: یجوز إذا کانا ثخینین لایشفان ، وعنہ رجع إلی قولہما وعلیہ الفتوی (ہدایة: ۱/۵۹، ۶۰)

    المسح علی الجوربین علی ثلاثة أوجہ: فی وجہ یجوز المسح عند الکل وہو ما إذا کانا ثخینین ، وفی وجہ لا یجوز بالاتفاق وہو أن یکونا غیر ثخینین وغیر منعلین ، وفي وجہ اختلفوا فیہ وہو ما إذا کانا ثخینین غیر منعلین، وعن أبي حنیفة - رحمہ اللہ - أنہ رجع فی آخر عمرہ قبل موتہ بتسعة أیام وقیل ثلاثة أیام (ھامش ہدایة: ۱/۶۰، ط: اتحاد دیوبند)

    سوال میں مذکور ” قال أبوعیسی: سمعت صالح بن محمد الترمذي“ سے آخر تک کی عبارت ترمذی کے مشہور نسخوں میں نہیں ہے؛ البتہ علامہ عابد سندھی والے قلمی نسخے میں یہ عبارت موجود ہے، پس آخری عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ امام صاحب جوربین غیر مجلدین وغیر منعلین ثخینین پر مسح کے جواز کے قائل ہوگئے تھے، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امام صاحب مطلق موزے پر مسح کے جواز کے قائل ہوگئے تھے یا انہوں نے مطلق موزے پر مسح کیا تھا جیسا کہ عام کتب فقہ و فتاوی سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند