• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 168059

    عنوان: زیرو مشین سے مونچھیں صاف کرنے سے کیا سنت اداء ہوجائے گی

    سوال: کیا مونچھوں پر زیرو مشین پھیرنے سے مونچھیں پست کرنے کی سنت پر عمل ہوجائے گا یا نہیں؟

    جواب نمبر: 16805901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:424-363/sd=5/1440

    مونچھیں کاٹنے میں سنت یہ ہے کہ اُن کو اس طرح کاٹا جائے کہ ہونٹوں کے اوپر کی سرخی نظر آنے لگے ، مونچھوں کو بالکل مونڈنا بہتر نہیں ہے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر زیرو مشین پھیرنے سے مونچھیں بالکل منڈنے کے بجائے ،خوب اچھی طرح کٹ جاتی ہیں، تو اس سے سنت اداء ہوجائے گی۔

    قال ابن عابدین:واختلف فی المسنون فی الشارب ہل ہو القص أو الحلق؟ والمذہب عند بعض المتأخرین من مشائخنا أنہ القص۔ قال فی البدائع: وہو الصحیح۔۔۔۔وقال فی الفتح: وتفسیر القص أن ینتقص عن الاطار، وہو بکسر الہمزة: ملتقی الجلدة واللحم من الشفة۔ ( رد المحتار:۵۵۰/۲، کتاب الحج، باب الجنایات فی الحج، ط: دار الفکر، بیروت ) وقال الملا علی القاری: قص الشارب: قال الحافظ ابن حجر:فیسن احفاوہ حتی تبدو حمرة الشفة العلیا۔ ( مرقاة المفاتیح:۹۱/۲، کتاب الطہارة، باب السواک، الفصل الأول، رقم الحدیث: ۳۷۹ ) وقال ابن عابدین: اذا تردد الحکم بین سنة و بدعة، کان ترک السنة راجحاً علی فعل البدعة۔ ( رد المحتار:۶۴۲/۱،کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیہا، مطلب: اذا تردد الحکم بین سنة و بدعة، کان ترک السنة أولی، ط:دار الفکر، بیروت) فتاوی محمودیة: ۴۲۳/۱۹۔۔۴۲۴، باب خصال الفطرة۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند