• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 166928

    عنوان: جن احادیث كے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے كہ نماز چھوڑنے والا كافر ہوجاتا ہے تو كیا نكاح بھی ٹوٹ جاتا ہے؟

    سوال: جھوٹ بولنے اور نماز چھوڑنے پر ایسی احادیث ہیں جن کے ظاہر سے جھوٹ بولنا اور نماز چھوڑنے والا کافر ہو جانا معلوم ہوا ہے کیا اس طرح نکاح بھی دوبارہ کروانا پڑتا ہے کیونکہ کفر سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟

    جواب نمبر: 16692801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 398-286/B=3/1440

    ایسی کوئی حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری کہ جھوٹ بولنے والا کافر ہو جاتا ہے؛ البتہ کبیرہ گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔ نماز قصداً چھوڑنے والے سے متعلق ایک حدیث آئی ہے کہ: من ترک الصلاة متعمداً فقد کفر۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ جس نے قصداً نماز چھوڑی اس نے فعلِ کفر کیا۔ یعنی نماز ترک کرنا اور نہ پڑھنا یہ کافروں کا فعل ہے اور مسلمانوں کا فعل نماز پڑھنا ہے یعنی کافر اور مسلمان میں پہچان یہ بتائی ہے کہ مسلمان نماز پڑھتا ہو اور کافر نماز نہیں پڑھتا ہے۔ اس سے کافر نہیں ہوتا، ترک نماز بھی بڑے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند