• عقائد و ایمانیات >> حدیث و سنت

    سوال نمبر: 166666

    عنوان: رہبانیت كیا ہے؟ نیز ’’لا رہبانیۃ فی الاسلام‘‘ كا حوالہ بھی مطلوب ہے۔

    سوال: (اسلام میں گوشہ نشینی)تنہائی اختیار کرنے کی نوعیت کیا ہے ؟ اور آج کے دور میں اس کے کیا تقاضے ہیں؟ لا رہبانیتہ فی اسلام حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ نیز یہ حدیث مبارک نمبر اور کتاب کا حوالہ بھی شیئر کریں۔

    جواب نمبر: 16666601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 190-181/D=3/1440

    رہبانیت ،گوشہ نشینی اور رہبانیت اختیار کرنا۔ جس کا حاصل نکاح ، جائز لذتوں اور لوگوں سے اختلاط کا چھوڑنا ہے۔ اس کو موجب اجر وثواب سمجھ کر اختیار کرنا اسلام میں جائز نہیں، لا رہبانیة في الإسلام میں اسی کی نفی کی گئی ہے، لیکن علامہ ابن حجر نے فرمایا کہ : یہ حدیث مجھے ان لفظوں سے نہیں ملی، البتہ ابن عباس سے مرفوعاً منقول ہے: ”لا صَرورةَ في الإسلام“ ۔ أخرجہ أحمد و أبوداوٴد وصححہ الحاکم (فتح الباری: ۹/۱۱۱، دارالمعرفة بیروت) ۔

    اسلام میں رہبانیت مطلوب ہی نہیں ہے؛ بلکہ تقوی مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ آدمی جھوٹ ، غیبت، بہتان، چوری، زنا اور تمام صغائر و کبائر سے بچے، پھر ان تمام قبائح کو ترک کرنے کے لئے ، اور اوصاف حمیدہ حاصل کرنے کے لئے اگر وقتی طور پر بعض مباحات مثلاً لوگوں سے اختلاط وغیرہ کو بطور علاج ترک کردے، اور اس ترک کی پابندی اس وقت تک کرے جب تک یہ رذائل دور نہ ہو جائیں، اور نفس پر کنٹرول نہ ہوجائے تو اس کی اجازت ہے۔ (معارف القرآن: ۸/ ۳۲۲-۳۲۳، نعیمیہ دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند