• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 4779

    عنوان:

    ہمارے گاؤں میں جین آزادی سے اپنی مذہبی تقاریب کرتے ہیں جس میں وہ پورے گاؤں والوں کوکھانے میں دعوت دیتے ہیں، اس طرح کا کھانا حرام ہے یا نہیں حلال؟ (۲) غیرمسلمین اپنے بھگوان کے سامنے مٹھائیاں اور دیگر چیزیں چڑھا کر بعد میں اسے تقسیم کرتے ہیں تو اس کا کھانا کیساہے؟ ہمارے کچھ مسلم برادران بھی درگاہوں میں کچھ ایساہی کرتے ہیں تو ان چیزوں کا کھانا کیساہے؟ کیا ہم اسے عام کھانے کی چیز سمجھ کر کھاسکتے ہیں؟

    سوال:

    ہمارے گاؤں میں جین آزادی سے اپنی مذہبی تقاریب کرتے ہیں جس میں وہ پورے گاؤں والوں کوکھانے میں دعوت دیتے ہیں، اس طرح کا کھانا حرام ہے یا نہیں حلال؟ (۲) غیرمسلمین اپنے بھگوان کے سامنے مٹھائیاں اور دیگر چیزیں چڑھا کر بعد میں اسے تقسیم کرتے ہیں تو اس کا کھانا کیساہے؟ ہمارے کچھ مسلم برادران بھی درگاہوں میں کچھ ایساہی کرتے ہیں تو ان چیزوں کا کھانا کیساہے؟ کیا ہم اسے عام کھانے کی چیز سمجھ کر کھاسکتے ہیں؟

    جواب نمبر: 477901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 186/ ج= 186/ ج

     

    غیرمسلموں کے مذہبی تیوہاروں میں شرکت کرنا اور اس موقع پر ان کی دعوت کھانا ناجائز اور حرام ہے اور چوں کہ گناہِ کبیرہ ہے اس لیے توبہ لازم ہے: من خرج إلی السّدّة أي مجتمع أہل الکفر في یوم النیروز کفر لأنہ فیہ إعلان الکفر وکأنہ أعانھم علیہ (شرح فقہ أکبر:۲۳۰) اور اگر وہ کھانا گھر بھیجیں تو کھانا تو حرام نہ ہوگا، البتہ نہ لینا بہتر ہے اور اگر کسی مصلحت کی وجہ سے لے لے تو شرعاً گنجائش ہے: ولو أہدي لمسلم ولم یرد تعظیم الیوم بل جری علی عادة الناس لا یکفر وینبغي أن یفعلہ قبلہ أو بعدہ نفیاً للتھمة (الشامي، ط زکریا، ج۱۰ ص۴۸۶)

    (۲) غیرمسلمین جو اپنے معبودوں کے سامنے چڑھاوے چڑھاتے ہیں چوں کہ اس سے ان کا مقصود غیراللہ کا تقرب ہوتا ہے اس لیے اس کا کھانا جائز نہیں: لأنہ حرام وسحت (الشامي، ج۳ ص۴۲۶) اور مسلمان جو درگاہوں میں کرتے ہیں اس سے ان کا مقصود عموماً فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا ہوتا ہے، غیر اللہ کا تقرب و تعظیم مقصود نہیں ہوتا اس لیے محتاج فقیر شخص کے لیے اس کے کھانے کی اجازت ہے، اگرچہ احتیاط اولیٰ اور افضل ہے، لیکن مالدار غنی شخص کو اس کے کھانے کی اجازت نہیں: ولا یجوز لخادم الشیخ أخذہ إلا أن یکون فقیرًا (السابق)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند