• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 18865

    عنوان:

    آج ہم نے ایک کھانا تیار کیا جس کانام حلیم ہے جب کہ ہم کومعلوم ہے کہ حلیم اللہ کا بھی نام ہے۔ تو کیا اس کھانے کو حلیم کہنا جائز ہے؟

    سوال:

    آج ہم نے ایک کھانا تیار کیا جس کانام حلیم ہے جب کہ ہم کومعلوم ہے کہ حلیم اللہ کا بھی نام ہے۔ تو کیا اس کھانے کو حلیم کہنا جائز ہے؟

    جواب نمبر: 1886501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د):100=98-2/1431

     

    حلیم عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی تحمل، برداشت یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام بھی ہے۔ اور یہی لفظ حلیم اردو میں ایک خاص قسم کے کھانے کا نام ہے، ایک لفظ کے متعدد معنی ہوسکتے ہیں یا دو مختلف زبانوں کے الفاظ متحد الصوت یامتحد الصورت ہوسکتے ہیں، قرینہ سے جو معنی متعین ہوجائے وہی معنی مراد ہوں گے، بسا اوقات دوسرے معنی کا تصور یا تخیل بے ادبی قرار پاتا ہے، پس آپ وہم میں نہ پڑیں، اردو زبان میں حلیم جس کھانے کو کہا جاتا ہے اسے حلیم کہہ بھی سکتے ہیں اور حلیم کو کھا بھی سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند