• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 164687

    عنوان: کچھوا کھانا اور اس کی تجارت کرنا کیسا ہے؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیانے کرام اس مسُلہ کے بارے میں کہ کچھوا کھانا اور اس کی تجارت کرنا کیسا ہے ؟ براے کرم مدلل و مفصل جواب دیکر شکریہ کا موقع عنایت فرمایں۔

    جواب نمبر: 16468701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 1318-1085/SN=1/1440

    کچھوا کھانا شرعاً جائز نہیں ہے، رہی اس کی بیع تو اگر اس کی کھال یا ہڈی وغیرہ کا استعمال دواوٴں میں ہوتا ہو تو گنجائش ہے۔ وفی الحاوي الزاہدي: یجوز بیع الحیات إذا کان ینتفع بہا للأدویة وماجاز الانتفاع بجلدہ أو عظمہ أي من حیوانات البحر أو غیرہا (رد المحتار علی الدر المختار: ۷/۲۶۰، ط: زکریا) نیز دیکھیں: بہشتی زیور: ۹/۱۰۳، ۱۰۴، ط: اختری۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند