• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 11293

    عنوان:

    اگر کسی شخص کو کوئی مہلک بیماری لاحق ہواور اس کا علاج صرف شراب ہو اس کے علاوہ اس کا کوئی چارہ کار نہ ہو تو کیا اس کو شراب پینا جائز ہے؟

    سوال:

    اگر کسی شخص کو کوئی مہلک بیماری لاحق ہواور اس کا علاج صرف شراب ہو اس کے علاوہ اس کا کوئی چارہ کار نہ ہو تو کیا اس کو شراب پینا جائز ہے؟

    جواب نمبر: 1129301-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 311=285/ب

     

    حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے حرام چیز میں شفا نہیں رکھی ہے۔ لہٰذا شراب جیسی نجس چیز کو کسی مسلمان مریض کو پلانا اور شراب سے علاج کرنا، جائز نہیں۔ آج کل اس کی جگہ بہت سی دوائیں ایجاد ہوچکی ہیں، ان ہی دواؤں سے علاج کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند