• معاشرت >> ماکولات ومشروبات

    سوال نمبر: 11224

    عنوان:

    جیسا کہ قرآن میں لکھا ہے کہ ہمارے لیے وہ کھانا حرام ہے جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ کچھ لوگ کھانے کا فاتحہ کرتے ہیں یعنی کھانے پر قرآن کی کچھ آیتیں پڑھتے ہیں او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی ولی اللہ کا نام لیتے ہیں۔ کیا ایساکھانا بھی حرام ہے؟ (۲)ہم سرکاری کوارٹر میں رہتے ہیں او رہمارے سارے اسٹاف غیر مسلم ہیں جب ہم قربانی کرتے ہیں تو انھیں گوشت نہیں دیتے اور نہ ہی دعوت دیتے ہیں مگر ایسا کرنے سے ہمیشہ وہ لوگ بولتے ہیں کہ تمہارا کیسا مذہب ہے جس میں غیر مسلموں کو قربانی کا گوشت دینا منع ہے ،جب کہ ہم لوگ مسلمانوں کو اپنے ہر تہوار میں دعوت دیتے ہیں۔

    سوال:

    جیسا کہ قرآن میں لکھا ہے کہ ہمارے لیے وہ کھانا حرام ہے جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔ کچھ لوگ کھانے کا فاتحہ کرتے ہیں یعنی کھانے پر قرآن کی کچھ آیتیں پڑھتے ہیں او رنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی ولی اللہ کا نام لیتے ہیں۔ کیا ایساکھانا بھی حرام ہے؟ (۲)ہم سرکاری کوارٹر میں رہتے ہیں او رہمارے سارے اسٹاف غیر مسلم ہیں جب ہم قربانی کرتے ہیں تو انھیں گوشت نہیں دیتے اور نہ ہی دعوت دیتے ہیں مگر ایسا کرنے سے ہمیشہ وہ لوگ بولتے ہیں کہ تمہارا کیسا مذہب ہے جس میں غیر مسلموں کو قربانی کا گوشت دینا منع ہے ،جب کہ ہم لوگ مسلمانوں کو اپنے ہر تہوار میں دعوت دیتے ہیں۔

    جواب نمبر: 1122401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 329=329/م

     

    (۱) قرآن میں اس ذبیحہ کو حرام قرار دیا گیا ہے، جو غیر اللہ کے نام پرذبح کیا گیا ہو، مطلقًا کھانا مراد نہیں، پس جس کھانے پر فاتحہ پڑھی گئی ہو، اگرچہ اس پر حرام ہونے کا حکم نہیں، لیکن کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں، اس لیے یہ عمل بدعت اور ناجائز ہے۔

    (۲) قربانی کا گوشت غیرمسلم کو دینا منع نہیں ہے، دے سکتے ہیں، البتہ مسلمانوں کو غیرمسلم کے مذہبی تہواروں میں شرکت سے احتراز کرنا چاہیے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند