• معاشرت >> تعلیم و تربیت

    سوال نمبر: 1134

    عنوان:

     (۱) کیا اسکول میں مسلم بچوں کو کمپیوٹر پر جنسیات سے متعلق متحرک تصاویر سیکھنے سکھانے کی نیت سے دیکھنا جائز ہے؟ کیوں کہ برطانوی حکومت کی طرف سے یہ لازمی ہے۔ (۲) سیکس ایجوکیشن (جنس سے متعلق تعلیم) کے سلسلے میں اسلامی حکم کیا ہے؟ یہ اس ملک میں قومی نصاب کا جزء ہے اور جملہ سرکاری اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن پالیسی لازمی ہے۔ (۳) اگر درج بالا دونوں امور ناجائز ہیں تو کیا اس مسئلہ کا کوئی متبادل ہے؟

    سوال:

     (۱) کیا اسکول میں مسلم بچوں کو کمپیوٹر پر جنسیات سے متعلق متحرک تصاویر سیکھنے سکھانے کی نیت سے دیکھنا جائز ہے؟ کیوں کہ برطانوی حکومت کی طرف سے یہ لازمی ہے۔

    (۲) سیکس ایجوکیشن (جنس سے متعلق تعلیم) کے سلسلے میں اسلامی حکم کیا ہے؟ یہ اس ملک میں قومی نصاب کا جزء ہے اور جملہ سرکاری اسکولوں میں سیکس ایجوکیشن پالیسی لازمی ہے۔

    (۳) اگر درج بالا دونوں امور ناجائز ہیں تو کیا اس مسئلہ کا کوئی متبادل ہے؟

    جواب نمبر: 113401-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  771/ج = 771/ج)

     

    (۱) جائز نہیں۔

    (۲) اسلام اوپر ذکرکردہ سیکس ایجوکیشن کی اجازت نہیں دیتا ہے، اور اگر آپ سیکس ایجوکیشن کے کسی اور طریقہ کے بارے میں دریافت کرنا چاہتے ہیں تو اسے اور نیز اس میں کن کن چیزوں کی تعلیم دی جاتی ہے اسے لکھ کر دوبارہ معلوم کریں۔

    (۳) سیکس ایجوکیشن کے مقاصد کیا ہیں؟ نیز اس پر سیکھنے والوں میں اچھے یا برے کیا نتائج مرتب ہوتے ہیں؟ انھیں لکھ کر بھیجیں پھر ان شاء اللہ اس کے متبادل کے بارے میں غور کیا جائے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند