India

سوال # 173922

اگر کسی شخص کو غیر اختیاری (نہ چاہتے ہوئے بھی) دماغ میں شہوت کا خیال آتا رہتاہے جس کی وجہ سے مذی نکلتی رہتی ہے اور نماز کا وقت ہوجاتاہے اور نماز میں بھی وہی خیالات آتے ہیں اور مذی نماز کے درمیان بھی نکلتی رہتی ہے اگر چہ اس کو دھل کر نماز شروع کریں، کتنی بھی کوشش کرے ، لیکن یہ چیز بند نہیں ہورہی ہے، کچھ دن ایسا ہونے کے بعد کچھ دن صحیح رہتاہے پھر ویسا ہی ہوجاتاہے ، میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ مذی نکلنے کی حالت میں نماز پڑھ سکتاہے جب کہ مذی کی مقدار ہاتھ کی لکیر کی گہرائی سے زیادہ ہو؟ اگر نہیں تو پھر کیا حکم ہے؟ اور اگر نماز نہ پڑھے تو نماز جان بوجھ کر چھوڑنے کا مجرم ہوگا۔ براہ کرم، تسلی بخش جواب دیں۔ اور اس بیمار ی سے کیسے بچا جائے اس کا طریقہ بھی بتادیں۔ جزاک اللہ

Published on: Nov 10, 2019

جواب # 173922

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 253-181/B=03/1441



آپ شرعی معذور نہیں ہیں اس لئے جب بھی نماز پڑھتے ہوئے مذی نکل جائے خواہ تھوڑی نکلے یا زیادہ ہر حال میں پاکی حاصل کرکے دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی۔ کسی اچھے حکیم سے آپ یونانی علاج کرائیں اور نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھا کریں۔ ان شاء اللہ یہ بیماری جاتی رہے گی۔ کثرت سے رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْن وَاَعُوْذُبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْن پڑھتے رہیں، ان شاء اللہ یہ شہوانی خیالات ختم ہو جائیں گے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات