Pakistan

سوال # 173360

کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرح متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں، میں نے بہت سے علماء کرام کو اور عام لوگوں کو دیکھا ہے جو تسبیح اور اعدادوشمار سے استخارہ کر تے ہیں کیا قرآن وحدیث سے یہ بات ثابت ہے دلیلِ کے ساتھ جواب دے؟ میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے ان کے سامنے بہت ہی بہتر کاروبار یہ رشتے ہوتے ہیں اور وہ قدم نہیں اٹھاتے کے پیر صاحب کے یا پھر کسی اللّہ والے کے استخارہ میں صحیح نہیں آیا معاذاللہ کیا اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا ہے یا غیب کا علم آگیا ہے یا معاذاللہ تقدیر لکھنے پر معمور ہوگئی ہو کہ وہ لوگوں کی زندگی کے فیصلے کرے ان کے لئے کیا صحیح کیا غلط ہے مجھے اس معاملے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں میں بہت پریشان ہو گیا ہوں۔ استخارہ تو صرف خیر کے طلب کرنے کا نام ہے کوئی کے سے بتا سکتا ہے کسی بھی عمل سے کے کسی شخص کے لئے کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ۔ القرآن الکریم: إِنَّ اللَّہَ عِندَہُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ ( 34 ) لقمان - الآیة 34 ترجمہ: خدا ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہہ برساتا ہے۔ اور وہی (حاملہ کے) پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے (کہ نر ہے یا مادہ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا۔ اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کس سرزمین میں اُسے موت آئے گی بیشک خدا ہی جاننے والا (اور) خبردار ہے سورت لقمان آیت 34۔۔ اس آیت کا بھی جواب دے جو کہ صاف اور واضح ہے کہ کسی کے مستقبل کا علم اللہ تعالیٰ کے علاؤہ کسی کو نہیں ۔
میرے سوالات ۔ 1) کیا کوئی شخص کسی دوسرے کے لئے استخارہ کر سکتا ہے ؟ اسکی کوئی دلیل ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یہ تابعین میں سے کسی نے کیا ہوں ؟
2) جو شخص اس طرح عمل کر کے لوگوں کو استخارہ کے نام پر اپنی رائے دیں اس شخص کے بارے میں عام مسلمان کیا عقیدہ رکھے ؟
3) اس طرح کے عمل کرواکر ان پر عمل کرنا کے سا ہے.. کیا ان لوگوں کی بات مانی چاہیے ؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اپنا مشورہ ، موقف، رائے دے رہے ہیں عمل کرنا ہے تو کروں نہیں تو کوئی بات نہیں۔ پر کوئی شخص بنا کسی کے بارے میں جاننے اپنی رائے کسے قائم کرسکتا ہے اور مشورہ تو امانت ہے اس سلسلے میں بھی رہنمائی فرمائیں؟ کیا یہ عمل شرک میں نہیں آتا کہ کوئی مستقبل کے کسی معاملے میں بات کرے کے آپ یہ کرے گے تو بہتر ہوگا اور یہ کرے گے تو بہتر نہیں ہوگا؟ ۔طالب دعاء ۔

Published on: Oct 20, 2019

جواب # 173360

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:34-23T/SN=2/1441



(1تا 3)تسبیح اور عدد وشمار سے استخارے کا کوئی ثبوت نہیں ہے، استخارے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ آدمی دو رکعت نفل نماز استخارے کی غرض سے پڑھے، اور نیت یہ کرے کہ میرے سامنے دوراستے ہیں، ان میں سے اللہ تعالی اس کا فیصلہ فرمادے جو میرے حق میں بہتر ہو، بعد نماز یہ دعا پڑھے:



اللہم إنی أستخیرک بعلمک، وأستقدرک بقدرتک، وأسألک من فضلک العظیم، فإنک تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغیوب. اللہم إن کنت تعلم أن ہذا الأمر خیر لی فی دینی ومعاشی وعاقبة أمری أو قال عاجل أمری وآجلہ، فاقدرہ لی ویسرہ لی ثم بارک لی فیہ، وإن کنت تعلم أن ہذا الأمر شر لی فی دینی ومعاشی وعاقبة أمری أو قال عاجل أمری وآجلہ فاصرفہ عنی واصرفنی عنہ، واقدر لی الخیر حیث کان ثم رضنی بہ. (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 470،ط: زکریا، دیوبند).



 بہتر یہ ہے کہ یہ عمل مسلسل سات دنوں تک کرے، اس کے بعد جس طرف دل کا رجحان ہو وہ کام انجا م دے ڈالے، استخارہ خود کرنا مسنون ہے ، دوسروں سے کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔(استخارے کا مسنون طریقہ) ؛باقی اگرکسی دوسرے نیک آدمی سے کرائے تو شرعا اس کی بھی گنجائش ہے؛ کیونکہ یہ بھی مثل دعا کے ہے اور دعا کرانا دوسروں سے بھی ثابت ہے، اگر دوسرا نیک شخص اللہ تعالی سے اخلاص کے ساتھ یہ عمل کرے ؛ لیکن اس کا دل مطمئن نہ ہو تو وہ اس کا اظہار کرسکتا ہے ، یہ غیب کی خبر دینا نہیں ہے، یہ تو ایک مباح امر میں دل کے رجحان کا اظہار ہے، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی تجربہ کی بنیاد پر کوئی مشورہ دے دے۔ واضح رہے کہ اس طرح کی چیز کوئی حتمی نہیں ہوتی اور نہ شرعا اس پر عمل کرنا واجب اور ضروی ہے، اگر اللہ تعالی سے دعائے استخارہ کے بعد آدمی وہ کام انجام دے دے تو وہ اپنی ذمے داری سے بری ہے۔اس سلسلے میں تفصیل کے لیے بہشتی زیور اور امداد الفتاوی کا مطالعہ مفید ہوگا۔



...وینبغی أن یکررہا سبعا، لما روی ابن السنی یا أنس إذا ہممت بأمر فاستخر ربک فیہ سبع مرات، ثم انظر إلی الذی سبق إلی قلبک فإن الخیر فیہ ولو تعذرت علیہ الصلاة استخار بالدعاء اہ ملخصا.(الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 2/ 471،ط: زکریا دیوبند)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات