Pakistan

سوال # 173179

سلوا اللہ الیقین والعافیة فإنہ لم یعط عبدٌ بعد العافیة خیرا من الیقین الترمذی : الدعوات (3558) , وابن ماجہ : الدعاء (3849) , وأحمد (1/8) احادیث کی کتب میں یہ دعا اللَّہُمَّ إنِّی أسْألُکَ العفو و الْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَةِ بزبان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے_ کیا مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں ہم یہ دعا اس طرح مانگ سکتے ہیں- اللَّہُمَّ إنِّی أسْألُکَ الیقین والعفو و الْعَافِیَةَ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَةِ؟ کیا اس طرح دعا مانگنا جائز ہے بدعت تو نہیں؟

Published on: Oct 7, 2019

جواب # 173179

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 25-15/H=01/1441



مذکورہ طریقے پر دعا مانگنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاوٴں کے ذریعہ دعا مانگنا بہتر ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات