Pakistan

سوال # 169211

1. کیا مجربات میں صرف ادعیہ و اذکار ہی شامل کیے جائیں گے یا نماز وغیرہ بھی مجربات کے قبیل سے ہو سکتی ہے جیسے نمازِوتر میں سورة قدروکافرون و اخلاص واسطے مرض بواسیر کے مجرب بتلاتے ہیں اور دانتوں کی پائیداری کے واسطے وتروں میں سورة نصرولھب واخلاص کا پڑھنا مجرب بتلاتے ہیں تواگر کوئی شخص وتر میں مندرجہ بالا سورتیں بطور مجربات پڑھ لیں تو کیا یہ جائز ہے کہ نہیں ؟ اور اگر اس شخص کا خاص مقصد ہی ان سورتوں کے پڑھنے سے اپنا علاج ہی ہو تو کیا اسکو نماز وتر کا ثواب ملے گا یا نہیں ؟ اسی طرح بعض وظائف میں کہتے ہیں کہ مثلا چاشت کے نماز میں یا دوسری نفل نماز میں یہ یہ سورتیں پڑھو تو رزق فراغ ہوجائے گا وغیرہ تو یہاں بھی یہی سوال ہے کہ آیا نفل نماز میں ایسے مجربات کا استعمال جائز ہے کہ نہیں ؟ اور اسکو اس نماز کا ثواب ملے گا کہ نہیں اگر اس شخص کا خاص مقصد یہی دنیوی مقصد ہی ہو؟ (امدادالفتاویٰ 1/357، باب صلوٰة الوتر)
2. وہ مجربات جن کے بارے میں موضوع روایات بھی موجود ہوں، ان پر کن ضوابط و شرائط سے عمل کی گنجائش ہے ؟ الف اگر ان موضوع / شدید ضعیف روایات میں حضورﷺ کی طرف صریح نسبت ہو تو کیا انکو از قبیل مجربات استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور اگر اجازت ہے تو کن ضوابط و شرائط کیساتھ ؟ جیسے حرزابودجانہ ، اذان سے غم دور ہونے والی روایت (کنزالعمال 5000- قال الدیلمی: "أنبأنا الشیخ الحافظ أبو جعفر محمد بن الحسن بن محمد وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، أنبأنا السلمی محمد بن الحسین وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، أنبأنا عبد اللہ بن موسی السلامی البغدادی وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، أنبأنا الفضل بن العباس الکوفی وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، ثنا الحسین بن ہارون الضبی وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، حدثنا عمر بن حفص بن غیاث وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، ثنا أبی وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، ثنا جعفر بن محمد وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، حدثنا علی بن الحسین وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، ثنا أبی وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک حدثنا علی بن أبی طالب وقال: قد جربتہ فوجدتہ کذلک، قال رآنی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: "یا ابن أبی طالب أراک حزینا، فمر بعض أہلک یؤذن فی أذنک فإنہ دواء للہم") وغیرہ ب- اگر ان موضوع / شدید ضعیف روایات میں حضورﷺ کی طرف صریح نسبت نہ ہو تو کیا انکو از قبیل مجربات استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور اگر اجازت ہے تو کن ضوابط و شرائط کیساتھ ؟

Published on: Sep 12, 2019

جواب # 169211

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 779-211T/H=01/1441



(۱) نماز وتر میں سورہٴ قدر و کافرون و اخلاص کو بواسیر کے مرض کے لئے جو مجرب بتلاتے ہیں، اسی طرح کسی بھی نماز میں کسی مخصوص سورت کو کسی بیماری کا جو علاج بتایا جاتا ہے تو گویا کہ یہ طاعت مقصودہ کو دنیوی غرض حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے تو اس ذریعہ بنانے کی دو صورت ہے ایک بلا واسطہ جیسے عاملوں کا طریقہ ہوتا ہے کہ دعاوٴں اور کلمات سے دنیوی اغراض و مقاصد ہی ہوتے ہیں تو مذکورہ صورت اور طریقے سے جو نماز پڑھی جائے تو اس نماز کا ثواب نہیں ملے گا، اس لئے کہ اس صورت میں یہ نماز طاعت نہیں رہ گئی اور سوال میں مذکور یہی صورت ہے، اور طاعت سے دنیوی غرض حاصل کرنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ دینی برکت کے واسطے سے دنیوی مقصد حاصل کیا جائے بایں طور کہ طاعات سے اولاً دینی برکت مقصود ہو پھر اس دینی برکت کو دنیوی اغراض میں موٴثر سمجھا جائے تو اس طریقے پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (امداد الفتاوی: ۱/۴۵۳، ط: زکریا دیوبند)



(۲) جو تعویذات اور دعائیں تجربے سے تعلق رکھتی ہیں ان کو تجربے کی بنیاد پر استعمال کیا جاسکتا ہے اور یہ ایک جائز درجے کی چیز ہے بشرطیکہ عدم جواز کی کوئی وجہ نہ پائی جائے؛ البتہ اگر وہ تعویذات اور دعائیں اصول حدیث کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطریق حسن یا بطریق صحیح ثابت ہوں تو ان دعاوٴں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے یا بتایا ہے درست ہے، اور اگر وہ دعائیں اصول حدیث کی روشنی موضوع ، ضعیف یا شدید ضعیف روایات سے ثابت ہیں تو ان دعاوٴں کے بارے میں یہ اعتقاد نہ رکھا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے یا بتایا ہے خواہ ان روایات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف صریح نسبت ہو یا نہ ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات