India

سوال # 14833



آپ سے ایک ضروری فتوی یہ پوچھنا تھا کہ
استخارہ کس طرح کیا جائے۔ میری اس سلسلہ میں ایک عرب مصری سے بات ہوئی تو وہ کہنے
لگا کہ دو رکعت نماز پڑھو اور کام شروع کرو ،اگر خیر ہے تو پایہ تکمیل کو پہنچے گا
نہیں تو خود بخود ختم ہوجائے گا۔ میں نے جو استخارہ کے بارے میں سنا وہ یہ ہے کہ
رات کو دو رکعت استخارہ کی نیت سے پڑھ کر سو جائیں صبح اٹھنے کے بعد جو دل میں خیال
آئے وہی استخارہ کا جواب ہے۔ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ استخارہ میں خواب کی کوئی اہمیت
نہیں ہے جب کہ ایک اور صاحب کا کہنا ہے کہ خواب میں جوچیز یا رنگ نظر آئے اس کی
اہمیت ہے (مثال کے طور پر اگر خواب میں کالا، زرد، لال رنگ کا مطلب اچھا نہ ہونے
کا ہے جب کہ سبز ، سنہرا، سفید ٹھیک ہوتا ہے)۔ اب آپ یہ بتائیں کہ کیا صحیح ہے اور
کیا غلط ہے ہم کس طرح یہ جانیں کہ کون سی چیز ہمارے لیے بہتر ہے؟ استخارہ کے خواب
پر روشنی ڈالیں اور یہ بھی بتائیں کہ استخارہ کون کرے (جس کا معاملہ ہو وہ یا کوئی
اور کرسکتا ہے)؟ امید ہے کہ سنت طریقہ سے آپ واقف کروائیں گے۔ اور خواب کی تعبیر
کس طرح سے معلوم ہو وہ بھی وضاحت فرماویں۔



Published on: Jul 25, 2009

جواب # 14833

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی: 1367=1116/د



 



(۱) رات
کو سونے سے قبل دو رکعت نفل نماز پڑھیں اس کے بعد دعائے استخارہ
اللّٰہم إني استخیرک بعلمک واستقدرک بقدرتک
إلی آخر

پڑھیں،
یہ دعا نماز اور دعا کی کتابوں میں لکھی رہتی ہے، بہشتی زیور میں بھی لکھی ہوئی
ہے، پوری رات میں خواب میں دکھائی دینا یا کالا، لال، زرد رنگ وغیرہ نظر آنا ضروری
نہیں ہے، استخارہ کا اثر اور فائدہ یہ ہوگا کہ جو چیز انسان کے حق میں بہتر ہوگی
اللہ تعالیٰ دل کا رجحان اورمیلان ادھر کردیں گے، کبھی خواب کے ذریعہ بھی کردیتے ہیں
یا اللہ تعالیٰ جس طریقہ سے چاہیں گے کریں گے، ایک مرتبہ میں استخارہ کا اثر نہ
ہو، تو سات دن تک برابر کرتے رہیں، جس کا معاملہ ہو اس کو استخارہ کرنا چاہیے۔



(۲) جب
کوئی اچھا خواب نظر آئے تو کسی عالم متقی سے جسے خواب کی تعبیر سے مناسبت ہو، خواب
ذکر کرکے تعبیر معلوم کرلیں۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات