• عبادات >> احکام میت

    سوال نمبر: 178742

    عنوان: کرونا وایرس (Coronavirus) کی وجہ سے میت کو غسل دینے کے متعلق ایک اہم استفتاء

    سوال: محترم ومکرم حضرت مفتی حبیب الرحمن صاحب مد ظلہ، صدر مفتی دار العلوم دیوبند السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے کہ آپ بخیر وعافیت ہونگے۔ ہمارے ہاں برطانیہ میں کرونا وایرس کے سبب اموات کی عدد دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے، حکومت کی طرف سے چند احتیاطی تدابیر کی رعایت کرتے ہوئے غسل میت کی اجازت ہے، چنانچہ بہت سے شہروں میں مسلمانوں نے اسکا نظم کیا ہے، اور ہمارے شہر میں بھی بحمدہ تعالی اسکا نظم ہے۔ لیکن بعض علاقوں میں یہ نظم نہیں ہے جسکی وجہ سے میت کو بلا غسل دفن کیا جارہا ہے، اسکی مختلف وجوہات ہیں، ایک وجہ تو یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے جو ہدایات ہیں ان میں مخصوص ماسک اور مخصوص کپڑے پہننے کا ذکر ہے، اسکو حاصل کرنے میں کافی دشواریاں ہیں ، دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض جگہوں پر ڈاکٹر حضرات اور ہسپتال کے ذمہ دار اسکے خلاف ترغیب دے رہے ہیں اور اسکے خطرات بیان کر رہے ہیں ، اس سلسلہ میں اطباء کی رائے میں بھی اختلاف ہے، تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض علاقوں میں غسل دینے کیلئے لوگ بالخصوص خواتین آمادہ نہیں ہورہی ہیں، اور ایک چوتھی وجہ یہ بھی ہے کہ بعض دیگر مسلک کے فتاوی بھی آچکے ہیں کہ ان حالات میں غسل میت ساقط ہے۔ بہر کیف، ہمارے مقامی مفتیان کرام کی طرف سے ہدایت لوگوں کو یہی ہے کہ حتی الامکان غسل میت کا نظم کیا جائے، اور اس سلسلہ میں حکومت کی طرف سے تمام ہدایات اور احتیاطی تدابیر کا بھی لحاظ کیا جائے۔ البتہ اگر کسی معتد بہ وجہ سے غسل ممکن نہ ہو تو اس شکل میں میت کے چہرے اور ہاتھ پر تیمم کیا جائے، اور اس صورت میں کوشش یہ کی جائے کہ انتقال کے بعد فورا ، یا میت کو مخصوص تھیلے (Body Bag) میں ڈالے جانے سے قبل تیمم کر لیا جائے۔(یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ حکومت کی طرف سے یہ ضروری نہیں ہے کہ میت کو مخصوص تھیلے میں ڈالا جائے، لیکن ہسپتال والوں کا تقریبا یہ عام معمول بن گیا ہے کہ میت کو اس مخصوص تھیلے میں ڈالا جاتا ہے ، اور جو حضرات غسل میت نہیں کرتے یا اسکے خطرات بیان کرتے ہیں انکا کہنا یہ ہے کہ غسل میت کیلئے اس مخصوص تھیلے کو کھولنا پریگا جسکی وجہ سے جراثیم پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے جہاں لوگوں کو معلوم ہو کہ غسل دینا مشکل ہے یا یقینی نہیں ہے ، تو وہاں ہمارے مفتیان کرام کی طرف سے ہدایت یہی ہے کہ اس مخصوص تھیلے میں ڈالے جانے سے قبل میت کے چہرے اور ہاتھ پر تیمم کر لیا جائے، اسکے بعد اگر غسل کا انتظام ہو جائے تو غسل بھی کر لیا جائے۔ ) البتہ جہاں غسل بھی ممکن نہ ہو اور تیمم بھی ممکن نہ ہو اور میت کو مخصوص تھیلے میں رکھ دیا گیا ہو اور اسے کھولنا متعذر ہو ، تو اس صورت میں ہمارے مقامی مفتیان کرام کی طرف سے ہدایت یہ ہے کہ ضرورۃً میت کو بغیر غسل وتیمم دفن کردیا جائے، مخصوص تھیلے کے اوپر پانی نہ ڈالا جائے اور نہ ہی اسکے اوپر مسح یا تیمم کیا جائے۔ البتہ اس سلسلہ میں بعض اہل علم کی ایک رائے ابھی موصول ہوئی ہے کہ اگر میت کے بدن پر غسل وتیمم ممکن نہ ہو، تو اس مخصوص تھیلے کے اوپر مسح کر لیا جائے اور پانی کی تری کو پورے تھیلے پر پہنچا یا جائے، جیسا کہ عصائب کے اوپر مسح کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے ہاں جب میت کو مخصوص تھیلے (Body Bag) میں ڈالا جاتا ہے تو وہ عامۃ اپنے ذاتی یا ہسپتال کے کپڑے ، یا ایک مخصوص قسم کا کفن (Body Shroud) پہنا ہوا ہوتا ہے، یہ کپڑے میت کے جسم کے ساتھ ملصق اور چپکے ہوئے ہوتے ہیں ، پھر اس میت کو اس مخصوص تھیلے میں ڈالا جاتا ہے، یہ ایک بڑا تھیلا ہوتا ہے، جو بدن سے منفصل ہوتا ہے، بدن کے ساتھ یا میت کے کپڑوں کے ساتھ چپکا ہوا نہیں ہوتا۔ تو اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ تھیلے کے اوپر مسح کرنے کا کوئی فائدہ ہے یا نہیں جب کہ وہ بدن سے منفصل ہوتا ہے، اور کیا اس صورت میں مسح مطلوب ہے؟ اگر مطلوب ہے تو پھر ایک مزید سوال یہ ہے کہ بعض جگہوں پر ڈبل تھیلا (Double Body Bag) استعمال کیا جاتا ہے، یعنی احتیاطا ایک تھیلے کے اوپر دوسرا تھیلا رکھا جاتا ہے، اور بعض جگہوں پر کافن (Coffin) یعنی صندوق میں ڈال کر اسکو بند کرلیا جاتا ہے، تو کیا ڈبل تھیلا اور صندوق کے اوپر بھی مسح کرنا ضروری ہوگا؟ اس سلسلہ میں کوئی صریح جزئیہ نہیں ملا، لیکن علامہ دسوقی رحمۃ اللہ علیہ الشرح الکبیر کے حاشیہ میں (جلد ۱، صفحہ ۴۰۸) تحریر فرماتے ہیں: وأما من تعذر غسله وتيممه كما إذا كثرت الموتى جدا فغسله مطلوب ابتداء لكن يسقط للتعذر جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر غسل وتیمم ممکن نہ ہو تو پھر ضرورت کی وجہ سے یہ ساقط ہوجاتا ہے ۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر امید ہے کہ جلد از جلد جواب مرحمت فرمائینگے۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء از: (مولانا) احمد سیدات واراکین جامع مسجد بلیکبرن ، یوکے ایمیل: [email protected] واتس آپ: 00447791184583

    جواب نمبر: 17874201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:748-113T/N=9/1441

    اگر کوئی مسلمان شخص، کورونا وائرس(Coronavirus) میں انتقال کرجائے تو عام مرحومین کی طرح اُسے بھی غسل دینا شرعاً ضروری ہے؛ البتہ W.H.O (World Health Organization) یعنی: عالمی ادارہ صحت کی طرف سے غسل وغیرہ سے متعلق جن طبی احتیاطی تدابیر کی ہدایت کی گئی ہے، اُنکا بہ طور خاص لحاظ رکھا جائے، اُن میں غفلت یا بے احتیاطی نہ برتی جائے۔ اور اگر ہسپتال کی انتظامیہ غسل دینے کی اجازت نہ دے تو طبی احتیاطی تدابیر پر عمل در آمد کی یقین دہانی کرکے اُنھیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی جائے۔ اور اگر وہ ہسپتال ہی میں غسل کا نظم کریں تو وہیں غسل دیدیا جائے۔ اور اگر غسل کی کوئی صورت نہ بن سکے تو مجبوری میں میت کو تیمم کرادیا جائے، مجبوری میں یہ تیمم ، غسل کا بدل ہوجائے گا۔

    اور اگر تمام تر کوشش کے باوجود کسی مرحوم کے غسل یا تیمم کی کوئی صورت نہ بن سکے اور ہسپتال کے عملہ کی طرف سے میت کو مخصوص تھیلے (Body Bag)میں پیک کردیا گیا ہو اور اُسے کھولنے کی قطعاً اجازت نہ ہو اور بہ صورت دیگر مختلف ناقابل برداشت مسائل وپریشانیوں کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں لواحقین کا میت سے دست بردار ہوجانا یا یونہی نماز جنازہ کے بغیر میت کی تدفین کردینا درست نہیں؛ بلکہ ایسی مجبوری میں غسل اور تیمم کا حکم ساقط ہوجائے گا اور اسی حالت میں مرحوم کی نماز جنازہ پڑھ کر تدفین کردی جائے گی۔ اور اس صورت میں چوں کہ باڈی بیگ(Body Bag) وغیرہ پر بھیگا ہاتھ یا بھیگا کپڑا وغیرہ پھیرنے کی کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے؛ اس لیے باڈی بیگ وغیرہ پر بھیگا ہاتھ یا بھیگا کپڑا وغیرہ پھیرنے کی ضرورت نہیں۔

    صورت مسئولہ میں غسل اور تیمم ساقط ہونے اور میت کی طہارت کے بغیر نماز جنازہ درست ہونے کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح مطلق نماز کے لیے نمازی کی کلی یا جزوی طہارت ایسی شرط ہے، جو عذر ومجبوری میں ساقط ہوجاتی ہے، اسی طرح نماز جنازہ کے لیے میت کی طہارت بھی ایسی شرط ہے، جو عذر ومجبوری میں ساقط ہوجاتی ہے؛ چناں چہ:

     

    الف: اگر کوئی بیمار شخص، غسل اعضا اور تیمم پر قادر نہ ہو تو وہ بلا طہارت نماز پڑھے گا۔

    بخلاف المریض إذا لم یستطع غسل الأعضاء ولا التیمم فإن الأعضاء یجعل کالذاھبة أصلاً للعذر فلھذا یصلي بغیر طھارة کذا في الإیضاح (الضیاء المعنوي، ص: ۱۸۲، ب، مخطوطة)۔

    ب: اگر کسی کے دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت اور دونوں پیر ٹخنے سمیت کٹے ہوئے ہوں اور چہرے پر زخم ہو، جس کی وجہ سے چہرہ پر مسح وغیرہ نہ ہوسکے تو طہارت کا حکم ساقط ہوجائے گا اور وایسا شخص بلا طہارت نماز پڑھے گا۔

    (ولو قطعت یداہ ورجلاہ من المرفق والکعب وبوجھہ جراحة صلی بغیر طھارة ولا تیمم ولا یعید، ھو الأصح)، وقد مر في التیمم (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، باب التیمم، ۱: ۴۲۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۱۴۵، ت: الفرفور، ط: دمشق نقلاً عن الفیض)(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المریض، ۲: ۵۷۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۴: ۵۵۲، ۵۵۳، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قال محمد بن الفضل: إن مقطوع الیدین والرجلین إذا کان بوجھہ جراحة یصلي بغیر طھارة وھذا صحیح (الضیاء المعنوي علی مقدمة الغزنوي، ص: ۱۸۷،ب، مخطوطة، وص: ۱۴۱، ب، مخطوطة أخری)۔

     

    ج: اگر کسی جنبی کے سر میں بہت زیادہ درد ہو اور وہ سر دھونہ سکتا ہو تواس کے ذمہ سے سر کا دھونا ساقط ہوجائے گا؛ البتہ اگر مسح کرسکتا ہو تو مسح ضروری ہوگا۔ اور اگر براہ راست مسح نہ کیا جاسکتا ہو، پٹی پر کیا جاسکتا ہو اور پٹی باندھنا ممکن ہو تو پٹی باندکر اُس پر مسح کرنا ضروری ہوگا۔ اور اگر پٹی پر بھی مسح نہ کیا جاسکتا ہو یا پٹی باندھنا ممکن نہ ہو تو یہ عضو، معدوم کے درجے میں ہوگا اور غَسل ومسح سب ساقط ہوجائے گا۔

    (من بہ وجع رأس لا یستطیع معہ مسحہ) محدثاً ولا غسلہ جنباً ففي الفیض عن غریب الروایة: یتیمم، وأفتی قاریٴ الھدایة أنہ (یسقط) عنہ (فرض مسحہ)، ولو علیہ جبیرة ففي مسحھا قولان، وکذا یسقط غسلہ فیمسحہ ولو علی جبیرة إن لم یضرہ وإلا سقط أصلاً وجعل عادماً لذلک العضو حکماً کما في المعدوم حقیقةً (الدر المختار مع رد المختار، کتاب الطھارة، آخر باب التیمم، ۱: ۴۳۳، ۴۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۱۷۱، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔ قولہ: ”قولان“: ذکر في النھر عن البدائع ما یفید ترجیح الوجوب، وقال: وھو الذي ینبغي التعویل علیہ اھ؛ بل قال في البحر: والصواب الوجوب ویأتي تمامہ في آخر الباب الآتي۔ قولہ: ”وکذا یسقط غسلہ“: أي: غسل رأسہ من الجنابة ۔ قولہ: ”ولو علی جبیرة“: ویجب شدھا إن لم تکن مشدودة، ط: أي: إن أمکنہ۔ قولہ: ”وإلا“: بأن ضرہ المسح علیھا (رد المحتار)۔

    وانظر البحر الرائق ومنحة الخالق (کتاب الطھارة، آخر باب التیمم، ۱: ۲۸۶، ۲۸۷، ط: مکتبة زکریا دیوبند) أیضاً۔

     

    د: اگر نماز جنازہ کے بغیر میت کی تدفین کردی گئی تو اس وقت تک قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی جب تک میت کے نہ پھٹنے کا یقین یا غالب گمان رہے۔ اس صورت میں حرمت نبش کی وجہ سے میت کو غسل یا تیمم دینے کا حکم ساقط ہوجائے گا۔

    (وإن دفن) وأھیل علیہ التراب (بغیر صلاة) أو بھا بلا غسل……… (صلی علی قبرہ) استحساناً (مالم یغلب علی الظن تفسخہ) من غیر تقدیر وھو الأصح، وظاھرہ أنہ لو شک في تفسخہ صلي علیہ، لکن في النھر عن محمد: لا کأنہ تقدیماً للمانع (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۲۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۵: ۳۰۰، ۳۰۱، ت: الفرفور، ط: دمشق)، أقول: وفي الحلبة: نص الأصحاب علی أنہ لا یصلی علیہ مع الشک في ذلک، ذکرہ في المفید والمزید وجوامع الفقہ وعامة الکتب، وعللہ في المحیط بوقوع الشک في الجواز اھ، وتمامہ فیھا (رد المحتار)۔

     

    ھ: اگر کسی حادثہ وغیرہ میں مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو کہ اُن سب کو غسل دینا یا تیمم کرانا لوگوں کے لیے ناقابل برداشت مشقت وپریشانی کا باعث ہو تو ایسی صورت میں فقہ مالکی کی صراحت کے مطابق غسل اور تیمم کا حکم ساقط ہوجائے گا اور بلا طہارت اُن کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔ وقواعدنا لا تأباہ۔

    وأما من تعذر غسلہ وتیممہ کما إذا کثرت الموتی جداً فغسلہ مطلوب ابتداء لکن یسقط للتعذر ولا تسقط الصلاة علیہ، وبھذا قرر طفي فیما یأتي عند قولہ: ”وعدم الدلک لکثرة الموتی“ (حاشیة الدسوقي علی الشرح الکبیر، باب الوقت المختار، فصل ذکر فیہ أحکام الجنائز، ۱: ۴۰۸، ط: دار إحیاء الکتب العربیة عیسی البابي الحلبي وشرکاوٴہ)۔

    وجاز (عدم الدلک لکثرة الموتی) کثرة توجب المشقة أي: الفادحة فیما یظھر، وکذا عدم الغسل، ویمم من أمکن تیممہ منھم وإلا صلي علیھم بلا غسل وتیمم علی الأصح (الشرح الکبیر للدردیر مع حاشیة الدسوقي علیہ، باب الوقت المختار، فصل ذکر فیہ أحکام الجنائز، ۱: ۴۲۰، ط: دار إحیاء الکتب العربیة عیسی البابي الحلبي وشرکاوٴہ )۔

    (قولہ:المشقة الفادحة) أي: في الدلک، والمراد بھا الخارجة عن المعتاد۔ (قولہ: وکذا عدم الغسل) أي: وکذا یجوز عدم الغسل لکثرة الموتی کثرة توجب المشقة الفادحة في تغسلیھم بلا دلک۔ (قولہ: وإلا صلي) أي: وإلا بأن کان یشق تیممھم مشقة فادحة صلي علیھم بلا غسل وبلا تیمم - إلی قولہ - وھذا الذي قالہ الشارح ھو ما قالہ الشیخ إبراھیم اللقاني وصوبہ بن خلافاً لعج القائل بعدم الصلاة علیھم (حاشیة الدسوقي علی الشرح الکبیر للدردیر)۔

    ومثلہ في حاشیة الصاوي علی الشرح الصغیر أیضاً حیث قال: قولہ: ”وھما متلازمان“: أي: في الطلب کما أشار لہ الشارح بقولہ:” فکل من غسلہ إلخ“، ولیس المراد أنھما متلازمتان في الفعل وجوداً وعدماً ؛ لأنہ قد یتعذر الغسل و التیمم وتجب الصلاة علیہ کما إذا کثرت الموتی جداً فغسلہ أو بدلہ مطلوب ابتداء لکن إن تعذر سقط للتعذر فلا تسقط الصلاة علیہ، وبھذا قرر (ر) عند قول خلیل: ”وعدم الدلک لکثرة الموتی“۔ (حاشیة الصاوي علی الشرح الصغیر، ۱:۵۴۳، ۵۴۴)۔

    ابن حبیب: لا بأس عند الوباء وما یشتد علی الناس من غسل الموتی لکثرتھم أن یجتزوٴوا بغسلة واحدة بغیر وضوء ویصب الماء علیھم صبا، ولو نزل الأمر الفظیع بکثرة الموتی فلا بأس أن یدفنوا بغیر غسل إذا لم یوجد من یغسلھم ویجعل النفر منھم في قبر واحد، وقالہ أصبغ وغیرہ (التاج والإکلیل لمختصر خلیل، کتاب الجنائز، ۳: ۴۶، ط: دار عالم الکتب للطباعة والنشر والتوزیع)۔

    خلاصہ یہ کہ کورونا وائرس میں انتقال کرنے والی میت کو اگر تمام تر کوشش کے باوجود غسل دینے یا تیمم کرانے کی کوئی صورت نہ بن سکے تو ایسی مجبوری میں غسل یا تیمم کا حکم ساقط ہوجائے گا اور اسی حالت میں اُس کی نماز جنازہ پڑھ کر تدفین کردی جائے گی ۔

     

    اور جو اہل علم اس صورت میں نمازہ جنازہ کے لیے باڈی بیگ (Body Bag) پر بھیگے ہاتھ یا کسی بھیگے کپڑے سے مسح کے قائل ہیں، اُن کی رائے درج ذیل وجوہ سے صحیح نہیں:

     

    پہلی وجہ: جبیرہ یا جبیرہ جیسی چیز پر مسح اس وقت جائز ہوتا ہے؛ جب وہ عضو پر بندھی ہوئی ہو، یعنی: جسم سے اچھی طرح چپکی ہوئی ہو جیسا کہ علامہ سید احمد طحطاوینے صراحت فرمائی ہے۔ اور باڈی بیگ(Body Bag)، جسم سے منفصل ہوتا ہے ؛ لہٰذا باڈی بیگ، ڈبل باڈی بیگ(Double Body Bag) یا کافین(Coffin)یعنی: تابوت وغیرہ پر مسح جائز نہ ہوگا؛ ورنہ صندوق کی طرح قبر پر بھی مسح جائز ہوگا؛ جب کہ فقہا نے صراحت فرمائی ہے کہ اگر کوئی میت بغیر غسل دفن کردی گئی تو جب تک میت کے نہ پھٹنے کا یقین یا غالب گمان ہو، قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اس میں فقہا نے قبر پر مسح کا حکم نہیں فرمایا ہے۔

    قولہ:( ولو علی جبیرة): ویجب شدھا إن لم تکن مشدودة، ط (حاشیة الطحطاوي علی الدر المختار، ۱: ۱۳۷، ط: مکتبة الاتحاد، دیوبند) (رد المحتار، کتاب الطھارة، آخر باب التیمم، ۱: ۴۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۱۷۱، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    (وإن دفن) وأھیل علیہ التراب (بغیر صلاة) أو بھا بلا غسل……… (صلی علی قبرہ) استحساناً (مالم یغلب علی الظن تفسخہ) من غیر تقدیر وھو الأصح، وظاھرہ أنہ لو شک في تفسخہ صلي علیہ، لکن في النھر عن محمد: لا کأنہ تقدیماً للمانع (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۲۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۵: ۳۰۰، ۳۰۱، ت: الفرفور، ط: دمشق)، أقول: وفي الحلبة: نص الأصحاب علی أنہ لا یصلی علیہ مع الشک في ذلک، ذکرہ في المفید والمزید وجوامع الفقہ وعامة الکتب، وعللہ في المحیط بوقوع الشک في الجواز اھ، وتمامہ فیھا (رد المحتار)۔

     

    دوسری وجہ: غَسلِ اعضا، زخم یا پٹی پر مسح اور تیمم سے متعلق فقہا نے جو جزئیات ذکر فرمائی ہیں، اُن سے اصولی طور پر حسب ذیل چند باتیں واضح ہوتی ہیں:

     

    الف: احناف کے نزدیک وضو یا غُسل میں غَسلِ اعضا اور تیمم دونوں کو جمع کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ وضو یا غُسل میں غَسلِ اعضا اصل ہے اور تیمم بدل ہے ۔اور بلا دلیل اصل اور بدل کا اجتماع درست نہیں؛ اسی لیے اگر جنبی یا محدث کے کچھ اعضا صحیح اور کچھ زخمی یا چیچک زدہ ہوں تو غَسل اور تیمم دونوں کا حکم نہیں ہوتا؛ بلکہ اگر اکثر اعضا صحیح ہوں تو غَسل کا حکم ہوتا ہے۔ اور اگر اکثر زخمی یا چیچک زدہ ہوں تو تیمم کا۔

    (ولا یجمع المکلف بینھما) أي: بین التیمم والغسل لما فیہ من الجمع بین البدل والمبدل، ولا نظیر لہ في الشرع، فیکون للأکثر حکم الکل (منح الغفار لشرح تنویر الأبصار، ۱: ۲۹، مخطوط، ونحوہ في تبیین الحقائق للزیلعي، ۱: ۴۵، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان، باکستان)۔

    وإذا أجنب الرجل وعلی جمیع جسدہ أو علی أکثرہ جراحة أو بہ جدري، فإنہ یتیمم ولا یمسح علی الجراحة ولا یغسل الموضع الصحیح، فإن کان أکثر بدنہ صحیحاً فإنہ یغسل الصحیح ومسح علی الباقي۔ وکذلک ھذا الحکم في أعضاء الوضوء۔ ولو ترک المسح علی الجبیرة إن کان یضرہ جاز وإلا فلا (مقدمة الغزوي ص:۳۳،ب، ۳۴، الف، مخطوط)۔

    ولو کان ببدنہ جراحة أو جدري، والغالب من مواضع الطھارة الصحة غسل الصحیح وربط الجبائر علی الجریح ومسح علیھا، وإن کان الغالب الجراحة فإنہ یتیمم ولا یغسل الصحیح عندنا، والمحدث والجنب في ذلک سواء (الضیاء المعنوي علی مقدمة الغزنوي، ص: ۱۸۷،ب، مخطوط، ص: ۱۴۱، ب، مخطوط آخر)۔

    (تیمم لو) کان (أکثرہ) أي: أکثر أعضاء الوضوء عدداً وفي الغسل مساحة (مجروحاً) أو بہ جدري اعتباراً للأکثر، (وبعکسہ یغسل الصحیح) ویمسح الجریح - إلی قولہ - (ولا یجمع بینھما) أي: تییم وغسل کما لا یجمع بین حیض وحبل الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، باب التیمم، ۱: ۴۲۹-۴۳۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۱۶۱-۱۶۶، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قولہ: ”اعتباراً للأکثر“: علة لقولہ: ”تیمم“، ط، قولہ: ”وبعکسہ“: وھو ما لو کان أکثر الأعضاء صحیحاً یغسل الخ، لکن إذا یمکنہ غسل الصحیح بدون إصابة الجریح وإلا تیمم، حلبة (رد المحتار)۔قولہ: ”ویمسح الجریح“: أي: إن لم یضرہ وإلا عصبھا بخرقة ومسح فوقھا، خانیة وغیرھا، ومُفادہ کما قال ط: أنہ یلزمہ شد الخرقة إن لم تکن موضوعة (المصدر السابق)۔قولہ: ”ولا یجمع بینھما“: لما فیہ من الجمع بین البدل والمبدل (المصدر السابق)۔ قولہ: ”وغسل“: بفتح الغین المعجمة لیعم الطھارتین، ح۔ قولہ: ”کما لا یجمع“: عدم الجمع في جمیع ما یأتي بمعنی المعاقبة من الطرفین: أي: کلما وجد واحد امتنع وجود آخر الخ (المصدر السابق)۔

     

    ب: زخم یا پٹی پر مسح، غَسل عضو کا بدل نہیں ہے؛ بلکہ غسل ہی کے درجے میں ہے؛ لہٰذا غَسلِ اعضاکے ساتھ زخم یا پٹی پر مسح میں کچھ حرج نہیں؛ اسی لیے اگر جنبی یا محدث کے اکثر اعضا صحیح ہوں اور کچھ زخمی یا چیچک زدہ تو صحیح کو دھونے کا اور زخمی پر مسح کا حکم ہوتا ہے۔ اور اگرزخم پر مسح نقصان دہ ہو اور پٹی باندھ کر اُس پر مسح ممکن ہو تو پٹی باندھ کر پٹی پر مسح ضروری ہوتا ہے۔

    (وحکم مسح جبیرة )ھي عیدان یجبر بھا الکسر (وخرقة قرحة وموضع فصد) وکي (ونحو ذلک) کعصابة جراحة ولو برأسہ (کغسل لما تحتھا) (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، باب المسح علی الخفین، ۱: ۴۶۸، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۲۲۹، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قال رحمہ اللہ:(والمسح علی الجبیرة وخرقة القرحة کالغسل لما تحتہا)، ولیس ببدل بخلاف المسح علی الخفین، ولہٰذا لا یمسح علی الخف في إحدی الرجلین ویغسل الأخری؛ لأنہ یوٴدي إلی الجمع بین الأصل والبدل۔ ولو کانت الجبیرة في إحدی رجلیہ مسح علیہا وغسل الأخری، ولا یکون ذلک جمعا بین الأصل والبدل، ألا تری إلی حدیث علی رضي اللہ عنہ أنہ صلی اللہ علیہ وسلم أمرہ بالمسح علی الجبیرة في إحدی یدیہ“، فثبت أن المسح علی الجبیرة ما دام العذر قائما أصل لا بدل (تبیین الحقائق، کتاب الطھارة، باب المسح علی الخفین، ۱: ۵۲، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان، باکستان)۔

    زاد في النھر وجھاً: وھو أن مسح الجبیرة لیس خلفاً عن غسل ما تحتھا ولا بدلا بخلاف الخف؛ فإن مسحہ خلف۔ واعلم أن البدل ھو ما لا یجوز عند القدرة علی الأصل کالتیمم، والخلف ھو ما یجوز کمسح الخف، ومسح الجبیرة في ذاتہ بدل؛ لکنہ نزل منزلة الأصل کما في البحر (تحفة الأخیار علی الدر المختار للحلبي، کتاب الطھارة، آخر باب المسح علی الخفین، ص: ۱۸، ب، مخطوطة)۔

    وہذا کلہ ظاہر في أن ہذا المسح (أي: علی الجبائر) لیس ببدل عن الغسل، وظاہر ما في الہدایة أنہ بدل، وتعقبہ بعض الشارحین بأنہ لیس ببدل بدلیل ما ذکرنا من الفرق بینہ وبین مسح الخف فلان أصلا لا بدلا، وأجیب بأنہ فی نفسہ بدل بدلیل أنہ لا یجوز عند القدرة علی الغسل؛ لکن نزل منزلة الأصل لعدم القدرة علیہ فکان کالأصل بخلاف المسح علی الخفین، فإنہ لم یعط لہ حکم الغسل؛ بل ہو بدل محض؛ ولہذا لو جمع بینہ وبین الغسل و بین المسح علی الجبیرة یلزم الجمع بین الأصل والبدل حقیقة و حکماً (البحر الرائق، کتاب الطھارة، باب المسح علی الخفین، ۱: ۳۲۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    والمسح علی الجبیرة ونحوھا کالغسل لما تحتھا ولیس بدلاً بخلاف الخف؛ لأنہ بدل محض فلا یتوقت مسح الجبیرة بمدة لکونہ أصلاً - إلی قولہ - ویجوز مسح جبیرة إحدی الرجلین مع غسل الأخری لکونہ أصلاً (مراقي الفلاح شرح نور الإیضاح مع حاشیة الطحطاوي علیہ، کتاب الطھارة، باب المسح علی الخفین، ص: ۱۳۶، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)۔

    قولہ: ”ولیس بدلاً“: أي: محضاً؛ بل نزل منزلة الأصل لعدم القدرة علیہ وإن کان في نفسہ بدلاً بدلیل أنہ لا یجوز عند القدرة علی الغسل (حاشیة الطحطاوي علی المراقي)۔ قولہ: ”لکونہ أصلاً“: أي: فلا یصیر جامعاً بین الأصل والبدل (االمصدر السابق)۔ قولہ: ”ولا یجب إعادة المسح علیھا“: لأنہ کالغسل لما تحتھا، وقد سقط بالمسح الأول کما إذا مسح رأسہ ثم حلقہ (المصدر السابق، ص: ۱۳۷)۔

    المسح علی الجبائر کالغسل لما تحتھا فیکون قائماً مقامہ (تحفة الفقہاء، کتاب الطھارة، باب المسح علی الخفین والجبائر، ۱: ۹۲، ط: دار الکتب العلمیة، بیروت)۔

    قولہ: (لا مسح خفھا): أي: مع مسح جبیرة الأخری للزوم الجمع بین الأصل والبدل (حاشیة الطحطاوي علی الدر المختار، کتاب الطھارة،باب المسح علی الخفین، ۱: ۱۴۴، ط: مکتبة الاتحاد دیوبند)۔

    (تیمم لو) کان (أکثرہ) أي: أکثر أعضاء الوضوء عدداً وفي الغسل مساحة (مجروحاً) أو بہ جدري اعتباراً للأکثر (وبعکسہ یغسل الصحیح) ویمسح الجریح (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، باب التیمم، ۱: ۴۲۹، ۴۳۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۱۶۱، ۱۶۲، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قولہ: ”اعتباراً للأکثر“: علة لقولہ: ”تیمم“، ط، قولہ: ”وبعکسہ“: وھو ما لو کان أکثر الأعضاء صحیحاً یغسل الخ ، لکن إذا یمکنہ غسل الصحیح بدون إصابة الجریح وإلا تیمم، حلبة (رد المحتار)۔

    قولہ: ”ویمسح الجریح“: أي: إن لم یضرہ وإلا عصبھا بخرقة ومسح فوقھا، خانیة وغیرھا، ومفادہ کما قال ط: أنہ یلزمہ شد الخرقة إن لم تکن موضوعة (المصدر السابق)۔

     

    ج: جس طرح غَسلِ اعضا اور تیمم کا اجتماع درست نہیں، اسی طرح تیمم اور (زخم یا پٹی پر) مسح کا اجتماع بھی درست نہیں؛ کیوں کہ (زخم یا پٹی پر) مسح، غَسل کے درجے میں ہوتا ہے؛ لہٰذا اگر جنبی یا محدث کے اکثر اعضا زخمی یا چیچک زدہ ہوں اور اعضائے تیمم پر تیمم ممکن ہو تو صرف تیمم کا حکم ہوگا اور وہ کافی ہوگا، تیمم کے ساتھ دوسرے اعضا پر غسل یا مسح کا حکم نہ ہوگا۔

    وإذا أجنب الرجل وعلی جمیع جسدہ أو علی أکثرہ جراحة أو بہ جدري، فإنہ یتیمم ولا یمسح علی الجراحة ولا یغسل الموضع الصحیح، فإن کان أکثر بدنہ صحیحاً فإنہ یغسل الصحیح ومسح علی الباقي۔ وکذلک ھذا الحکم في أعضاء الوضوء۔ ولو ترک المسح علی الجبیرة إن کان یضرہ جاز وإلا فلا (مقدمة الغزوي ص:۳۳،ب، ۳۴، الف، مخطوط)۔

     

    د: تیمم کا حکم اُس وقت ہوتا ہے جب اکثر اعضا کا غَسل متعذر ہو۔ اور اگر اس صورت میں تیمم بھی متعذر ہو تو دوبارہ غسل کی طرف عود نہیں کیا جاتا؛ لہٰذا اس صورت میں مسح کی طرف بھی عود نہیں کیا جائے گا؛ کیوں کہ یہ بدل سے اصل کی طرف عود کرنا ہے؛ جب کہ اصل کے تعذر ہی کی وجہ سے بدل کی طرف رجوع کیا گیا تھا، نیز تیمم سے عجز، غسل اور مسح سے عجز کو مستلزم ہے، پس تیمم سے عجز کی صورت میں غسل کی طرح مسح کا بھی حکم نہیں ہوسکتا۔

    (و یترک) المسح کالغسل (إن ضر وإلا لا) یترک۔ (وھو) مسحھا (مشروط بالعجز عن مسح) نفس الموضع، (فإن قدر علیہ فلا مسح ) علیھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، باب المسح علی الخفین، ۱: ۴۷۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    قولہ: ”ویترک المسح کالغسل“: أي: یترک المسح علی الجبیرة کما یترک الغسل لما تحتھا (رد المحتار)۔ قولہ: ”عن مسح نفس الموضع“: أي: وعن غسلہ، وإنما ترکہ؛ لأن العجز عن المسح یستلزم العجز عن الغسل، ح (تحفة الأخیار علی الدر المختار للحلبي، ص: ۸۱، ألف، مخطوطة)(المصدر السابق)۔والعجز عن المسح یستلزم العجز عن الغسل، حلبي ( حاشیة الطحطاوي علی الدر المختار، کتاب الطھارة، باب المسح علی الخفین، ۱: ۱۴۴، ط: مکتبة الاتحاد، دیوبند)۔

    قلت: أرأیت رجلا بہ جراحات في عام جسدہ، وہو یستطیع أن یغسل ما بقي ولا یستطیع أن یغسل الجراحات، وہي في رأسہ وصدرہ و ظہرہ وعامة جسدہ؟ قال: یتیمم۔ قلت: فإن کانت الجراحات في رأسہ أو في إحدی یدیہ؟ قال: یغسل سائر جسدہ۔ قلت: فکیف یصنع بمواضع الجراحات؟ قال: یمسح علیہا بالماء۔ قلت: فإن کان لا یستطیع ذلک؟ قال: یمسح علی الخرقة التي فوق الجراحة بالماء۔ قلت: فإن کانت الجراحات في رأسہ؟ قال: یغسل جسدہ ویدع رأسہ ویمسح علی الجراحات بالماء۔ قلت: أرأیت رجلا مریضا أجنب وہو لا یستطیع أن یغتسل لما بہ من الجدري؟ قال: یتیمم بالصعید۔ قلت: فإن کان بہ جرح في رأسہ، وہو یستطیع الغسل في سائر جسدہ؟ قال: یغسل جسدہ ویدع رأسہ۔ (کتاب الأصل للإمام محمد الشیباني، کتاب الصلاة، باب التییم بالصعید، ۱: ۱۰۴، ط: دار ابن حزم، بیروت، ونحوہ في الخانیة علی الھندیة، ۱: ۵۸، ط: المطبعة الکبری الأمیریة، بولاق، مصر)۔

    قال:(وإذا کان بہ جدري أو جراحات في بعض جسدہ، فإن کان محدثا فالمعتبر أعضاء الوضوء)؛ فإن کان أکثرہ صحیحا فعلیہ الوضوء في الصحیح، وإن کان أکثرہ مجروحا فعلیہ التیمم دون غسل الصحیح منہ۔ وإن کان جنبا فالعبرة بجمیع الجسد؛ فإن کان أکثرہ مجروحا تیمم وصلی عندنا،وقال الشافعي رحمہ اللہ تعالی:یلزمہ الغسل فیما ہو صحیح في الوجوہ جمیعا؛ لأن سقوط الغسل عما ہو مجروح لضرورة الضرر فی إصابة الماء والثیاب والضرورة تتقدر بقدرہا، ولنا أن الأقل تابع للأکثر؛ فإن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال فی المجدور: ”کان یکفیہ التیمم“، وأحد لا یقول: إنہ یغسل ما بین کل جدریین، فدل علی أن العبرة للأکثر، وإذا کان الأکثر مجروحا فکأن الکل مجروح، وقد بینا أنہ لا یجمع بین الأصل والبدل علی سبیل رفو أحدہما بالآخر، فإذا کان الأکثر مجروحا لم یکن لہ بد من التیمم، فسقط فرض الغسل لہذا (المبسوط للسرخسي، ۱: ۱۲۲، ط: دار المعرفة، بیروت، لبنان)۔

    (تیمم لو) کان (أکثرہ) أي: أکثر أعضاء الوضوء عدداً وفي الغسل مساحة (مجروحاً) أو بہ جدري اعتباراً للأکثر (وبعکسہ یغسل الصحیح) ویمسح الجریح (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الطھارة، باب التیمم، ۱: ۴۲۹، ۴۳۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۲: ۱۶۱، ۱۶۲، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

     

    ھ:اگر جنبی یا محدث کا اکثر بدن صحیح ہو اور کچھ زخمی ہو تو صحیح اعضا کو دھونے اور زخمی اعضا پر یا اُن کی پٹیوں پر مسح کا حکم ہوتا ہے۔ اور اگر اکثر بدن زخمی ہو اور کچھ صحیح ہو تو تیمم کا حکم ہوتا ہے۔ اس دوسرے جزو سے معلوم ہوا ہے کہ اگر کل یا اکثر اعضا زخمی ہوں کہ اُنھیں پانی سے دھونا نقصان دہ ہو تواُن پر پٹی باندھ کر مسح کا حکم نہ ہوگا۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ زخم یا پٹی پر مسح ، غَسل کے ساتھ ایک جزوی وتبعی اور ضمنی حکم ہے، مستقل نہیں؛ اسی لیے شریعت میں وضو یا غسل کے تمام اعضا پر مسح کی نظیر نہیں ہے۔

    وفي نصاب الفقہ: من عجز عن غسل أکثر الأعضاء في الوضوء والجنابة یتیمم ویصلي ؛ لأن للأکثر حکم الکل، وإن عجز عن غسل عضو واحد غسل سائر الأعضاء ومسح ذلک العضو، وبہ نأخذ (الضیاء المعنوي علی مقدمة الغزنوي، ص: ۱۸۸، ألف، مخطوطة، ص: ۱۴۲، ألف، مخطوطة أخری)۔

    ان اصولی جزئیات سے واضح ہوا کہ اگر میت کو غسل دینا یا تیمم کرانا ممکن نہ ہو تو باڈی بیگ وغیرہ پر مسح کا حکم نہ ہوگا؛ کیوں کہ یہ بدل سے دوبارہ اصل کی طرف سے لوٹنے کے مرادف ہے، نیز شریعت میں کل اعضا پر مسح کی کوئی نظیر نہیں ہے۔

     

    تیسری وجہ:فقہی جزئیات ودلائل کی روشنی میں بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وضو یا غسل میں پلاسٹر یا پٹی وغیرہ پر مسح کا مسئلہ زندوں کے ساتھ خاص ہے، مرحومین کے غسل میں پلاسٹر یا پٹی وغیرہ پر مسح نہیں ہے؛ بلکہ گر میت کے جسم پر کوئی پلاسٹر یا پٹی وغیرہ ہو تو غسل میں پلاسٹر کاٹ دینا چاہیے اور بندھی ہوئی پٹیاں کھول دینی چاہیے؛ جیسا کہ بعض اکابر کے فتاوی میں بھی ہے (فتاوی محمودیہ مع حاشیہ، ۸: ۵۰۰، جواب سوال: ۳۹۸۵، مطبوعہ: ادارہ صدیق، ڈابھیل، ۱۳: ۵۶، مطبوعہ:مکتبہ محمودیہ، علی پور، ہاپوڑ روڈ، میرٹھ) ؛ اسی لیے فقہ کی کسی کتاب میں غسل میت میں پلاسٹر یا پٹی وغیرہ پر مسح کا مسئلہ نہیں آیا ہے؛ جب کہ فقہا نادر سے نادر جزئیہ بھی ترک نہیں فرماتے ہیں۔

    نیز پلاسٹر یا پٹی وغیرہ پر مسح چوں کہ غسل کے درجے میں ہوتا ہے؛لہٰذا یہ تیمم پر مقدم ہوگا۔ اور فقہا غسل کے تعذر کی صورت میں براہ راست تیمم کا حکم فرماتے ہیں،پورے جسم پر پٹیاں باندھ کر یا بندھی ہوئی پٹیوں پر مسح کی اجازت نہیں دیتے؛ بلکہ اگر پلاسٹر یا پٹی وغیرہ پر مسح کی اجازت ہوتی تو فقہا جن صورتوں میں تیمم کا حکم فرماتے ہیں، اُن میں تیمم کے بجائے جسم پر پٹیاں باندھ کر یا اچھی طرح کفن لپیٹ کر مسح کا کا حکم فرماتے؛جب کہ ایسا نہیں ہے۔

     اگر میت کی یہ پوزیشن ہوچکی ہو کہ کسی صورت میں اُس پر پانی ڈال کر غسل نہیں دیا جاسکتا ؛ بلکہ آہستہ آہستہ پانی ڈال کر غسل دینے میں بھی میت کی کھال یا گوشت الگ ہونے کااندیشہ ہو تو ایسی صورت میں میت کو تیمم کرایا جائے گا، غسل نہیں دیا جائے گا، تمام فقہا کا یہی مسلک ہے۔ فقہ مالکی کے مشہور فقیہ: شیخ محمد علیش مالکیفرماتے ہیں کہ اس صورت میں فقہا نے جبائر پر مسح کا تذکرہ اس لیے نہیں کیا ہے کہ اگر غسل میت میں مسح علی الجبائر جائز ہوتا تو کفن پر بھی مسح درست ہوتا؛ جب کہ کفن پر مسح توارث امت کے خلاف ہے؛ اس لیے غسل میت میں جبائر پر مسح کا حکم نہیں ہے۔

    اور فقہ حنفی میں اگرچہ اس طرح کی کوئی صراحت احقر کو نہیں ملی؛ لیکن اصول وقواعد اسی کی تائید کرتے ہیں۔

    قولہ: ”کخوف تقطیع إلخ“:ولم یذکروا ھنا مسحا علی الجبائر، وإلا لمسح علی الکفن، ولیس من عمل الناس (التقریرات علی حاشیة الدسوقي علی الشرح الکبیر، باب الوقت المختار، فصل ذکر فیہ أحکام الجنائز، ۱: ۴۱۰، ط: دار إحیاء الکتب العربیة عیسی البابي الحلبي وشرکاوٴہ)۔

    لہٰذا صورت مسئولہ میں باڈی بیگ (Body Bag)یا ڈبل باڈی بیگ( Double Body Bag) وغیرہ پر بھیگا ہاتھ یا بھیگا کپڑا پھیر کر مسح کرنے کی ضرورت نہیں؛ بلکہ عذر ومجبوری کی وجہ سے طہارت کا حکم سرے سے ساقط ہوجائے گا اور اسی حالت میں نماز جنازہ پڑھ کر تدفین کردی جائے گی ۔ فقط واللّٰہ تعالی أعلم۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند