• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 68755

    عنوان: سنت کے مطابق داڑھی نہ رکھنے والے کے پیچھے نماز تراویح پڑھنا کیسا ہے؟

    سوال: ہماری مسجد میں دو حفاظ کرام تراویح پڑھاتے ہیں دونوں کی عمریں تقریبا ۲۵ برس سے اوپر ہے مگر دونوں کو سنت کے مطابق داڑھی نہیں ہے، البتہ تھوڑی بہت داڑھی ہے جو ان کے چہرے پر تقریباً ہی انھوں نے چھوڑ رکھی ہے۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا یسے اشخاص کے پیچھے نماز تراویح پڑھنا کیسا ہے ؟

    جواب نمبر: 6875531-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1005-990/N=10/1437 مذہب اسلام میں ایک مشت کے بقدر داڑھی رکھنا واجب وضروری ہے،داڑھی مونڈنا یا ایک مشت کے بقدر ہونے پر یا اس سے کم پر کاٹنا حرام ہے اور اس کا مرتکب فاسق ہے، اور امامت کا عہدہ مذہب اسلام نہایت عظمت وبرتری اور فضیلت کا عہدہ ہے ؛ اس لیے جو شخص کو داڑھی منڈاتا ہو یا ایک سے مشت کے بقدر ہونے پر یا اس سے کم پر کاٹتا ہو اس کو فرض نماز یا تراویح وغیرہ کسی بھی نماز میں امام بنانا مکروہ تحریمی ہے؛ اس لیے کسی غیر شرعی داڑھی والے حافظ کو فرض نمازوں کی طرح تراویح میں بھی امام نہ بنایا جائے؛ بلکہ با شرع حافظ کا نظم کیا جائے، فلذلک - فلأجل أن الأمر للوجوب -کان حلق اللحیة محرما عند أیمة المسلمین المجتھدین: أبي حنیفة ومالک والشافعي وأحمد وغیرھم، وھاک بعض نصوص المذاھب فیھا قال في کتاب الصوم من الدر المختار:……وأما الأخذ منھا وھي دون ذلک- أي:دون القبضة - کما یفعلہ بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل یھود الھند ومجوس الأعاجم اھ وقال فی البحر الرائق:……وأما الأخذ منھا وھي دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربة والمخنثة من الرجال فلم یبحہ أحد کذا في فتح القدیر اھ ونحوہ في شرح الزیلعي علی الکنز وحاشیة الشرنبلالي علی الدرروغیرھما من کتب السادة الحنفیة (المنھل العذب المورود،کتاب الطھارة، حکم اللحیة ۱:۱۸۶،ط: موٴسسة التاریخ العربي بیروت لبنان)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند