• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 66582

    عنوان: عورتوں کے سرسے گرے ہوئے بالوں کا بزنس کرنا

    سوال: میرے بڑے بھائی ایک کمپنی میں عورتوں کے سر کے گرائے ہوئے بالوں سے فیشن ایبل بال بناتے ہیں، نیز وہ کمپنی کی طرف سے ان بالوں سے دوسرے سامان بھی بناتے ہیں تو کیا شریعت کے مطابق یہ بزنس حلال ہے؟

    جواب نمبر: 6658201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 852-866/Sd=10/1437

     عورتوں کے سر سے گرے ہوئے بالوں کا بزنس کرنا ناجائز ہے، انسان کے کسی بھی جزء کو بیچنا شرعا ناجائز ہے۔ الاٰدمي مکرمٌ شرعًا وإن کان کافرًا، فإیراد العقد علیہ وإبتذالہ بہ، وإلحاقہ بالجمادات إذلالٌ لہ أي وہو غیر جائز، … وصرح في فتح القدیر ببطلانہ۔ (رد المحتار، کتاب البیوع / باب البیع الفاسد، مطلب: الآدمي مکرم شرعًا ولو کافرًا: ۷/۲۴۵ زکریا، فتح القدیر، کتاب البیوع / باب البیع الفاسد ۶/۳۹۰ زکریا، البحر الرائق ۶/۸۱، الفتاویٰ الہندیة، کتاب الکراہیة / الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات ۵/۳۵۴ زکریا)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند