• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 65876

    عنوان: ایک مشت کے بقدر داڑھی رکھنا واجب وضروری ہے

    سوال: اللہ کے فضل سے کچھ ماہ سے میں نے داڑھی رکھی ہے، میرا دبئی جانے کا ارادہ ہے اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں داڑھی والوں کو ویزا نہیں مل رہاہے، بہت سے جاننے والوں کے ویزا مسترد ہوئے ہیں داڑھی کی وجہ سے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو پہلے کام کرتے تھے اب داڑھی کی وجہ سے نکال دیئے گئے ہیں، مجھے سب کہہ رہے ہیں کہ داڑھی چھوٹی کرواکے پاسپورٹ بنوالو، بعد میں داڑھی کرلینا۔ سوال یہ ہے کہ میں پاسپورٹ بنانے کے لیے داڑھی چھوٹی کرواسکتاہوں؟

    جواب نمبر: 6587601-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 894-887/N=9/1437 مذہب اسلام میں ایک مشت کے بقدر داڑھی رکھنا واجب وضروری ہے، داڑھی مونڈنا یا ایک مشت کے بقدر یا اس سے کم پر کاٹنا حرام ہے؛ اس لیے پاسپورٹ بنوانے، ویزا لینے یا ملازمت وغیرہ کے لیے داڑھی مونڈنے یا ایک مشت سے کم کرانے کی ہرگز اجازت نہیں ہوسکتی، آپ داڑھی کے ساتھ ہی ویزا حاصل کرنے کی کوشش کریں، اگر ویزا مل جائے تو بہت اچھی بات ورنہ ویزا کے لیے آپ داڑھی ہرگز نہ منڈائیں اور نہ ہی ایک مشت سے چھوٹی کرائیں اور اس سلسلہ میں کسی مشورہ دینے والے کا مشورہ قبول نہ کریں اگرچہ وہ ماں باپ ہوں؛ کیوں کہ اللہ رب العزت کی نافرمانی والے کام میں کسی شخص کی اطاعت جائز نہیں، فلذلک - فلأجل أن الأمر للوجوب -کان حلق اللحیة محرما عند أیمة المسلمین المجتھدین: أبي حنیفة ومالک والشافعي وأحمد وغیرھم، وھاک بعض نصوص المذاھب فیھا قال في کتاب الصوم من الدر المختار: ……وأما الأخذ منھا وھي دون ذلک- أي: دون القبضة - کما یفعلہ بعض المغاربة ومخنثة الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل یھود الھند ومجوس الأعاجم اھ وقال فی البحر الرائق: ……وأما الأخذ منھا وھي دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربة والمخنثة من الرجال فلم یبحہ أحد کذا في فتح القدیر اھ ونحوہ في شرح الزیلعي علی الکنز وحاشیة الشرنبلالي علی الدرروغیرھما من کتب السادة الحنفیة (المنھل العذب المورود، کتاب الطھارة، حکم اللحیة ۱: ۱۸۶، ط: موٴسسة التاریخ العربي بیروت لبنان)، لا طاعة لمخلوق في معصیة الخالق (رواہ أحمد والحاکم عن عمران والحکم بن عمرو الغفاري وقال الہیثمي: رجال أحمد رجال الصحیح کذا في فیض القدیر ۶: ۴۳۲)۔ لا طاعة في معصیة، إنما الطاعة فی المعروف متفق علیہ (مشکاة المصابیح، ، کتاب الإمارة والقضاء، الفصل الأول ص ۳۱۹، ط المکتبة الأشرفیة دیوبند)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند