• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 567

    عنوان: اگر خاوند کو بیوی کے چال چلن پر شبہ ہوجائے، اگرچہ اس نے آنکھوں سے نہیں دیکھا مگر بیوی کے بعض حرکات و سکنات سے اس کا شک تقریباً یقین تک پہنچ جائے تو اس صورت میں خاوند بات کی تہہ تک کیا کرے۔ کیاوہ بیوی سے قسم لے سکتا ہے یا اس کو تشدد کرکے منواسکتا ہے۔ اوراگر بیوی خاوند کی بے خبری میں حرام کاری کی مرتکب ہوتی ہے تو کیا خاوند پر بھی اس کا گناہ ہے یا نہیں؟ نیز ولد الزنا کے کیا کچھ علامتیں ہیں؟

    سوال:

    اگر خاوند کو بیوی کے چال چلن پر شبہ ہوجائے، اگرچہ اس نے آنکھوں سے نہیں دیکھا مگر بیوی کے بعض حرکات و سکنات سے اس کا شک تقریباً یقین تک پہنچ جائے تو اس صورت میں خاوند بات کی تہہ تک کیا کرے۔ کیاوہ بیوی سے قسم لے سکتا ہے یا اس کو تشدد کرکے منواسکتا ہے۔ اوراگر بیوی خاوند کی بے خبری میں حرام کاری کی مرتکب ہوتی ہے تو کیا خاوند پر بھی اس کا گناہ ہے یا نہیں؟ نیز ولد الزنا کے کیا کچھ علامتیں ہیں؟

    والسلام

    جواب نمبر: 56701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 513/ب=496/ب)

     

    شک و شبہ ہے تو اس کی چھان بین اور تحقیق کرلی جائے، اس کے لیے بیوی سے قسم بھی لے سکتا ہے۔ سختی بھی کرسکتا ہے، اگر خدانخواستہ کسی حرام کاری میں صحیح ثبوت کے ساتھ بیوی ملوث پائی گئی تو اس میں شوہر گنہگار نہ ہوگا۔ صرف بیوی گنہگار ہوگی۔ ولد الزنا کی کوئی علامت متعین نہیں ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند