• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 544

    عنوان:

    موٴدبانہ عرض ہے کہ میں ایک لڑکے کو پالنا چاہتا ہوں کیوں کہ میرے پاس صرف ایک لڑکی ہی ہے، کوئی لڑکا نہیں ہے، اس لیے کسی کا بیٹا لے کر پالنا چاہتا ہوں۔ کیا وہ لڑکا بالغ ہونے کے بعد میری بیوی اور لڑکی کے لیے محرم بن سکتا ہے یا غیر محرم ہی رہے گا؟ براہ مہربانی، تفصیل سے قرآن و سنت کی روشنی میں بتادیں۔ خدارا جلد جواب دیجئے گا۔

    سوال:

    موٴدبانہ عرض ہے کہ میں ایک لڑکے کو پالنا چاہتا ہوں کیوں کہ میرے پاس صرف ایک لڑکی ہی ہے، کوئی لڑکا نہیں ہے، اس لیے کسی کا بیٹا لے کر پالنا چاہتا ہوں۔ کیا وہ لڑکا بالغ ہونے کے بعد میری بیوی اور لڑکی کے لیے محرم بن سکتا ہے یا غیر محرم ہی رہے گا؟ براہ مہربانی، تفصیل سے قرآن و سنت کی روشنی میں بتادیں۔ خدارا جلد جواب دیجئے گا۔

    والسلام

    جواب نمبر: 54431-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 543/ج=543/ج)

     

    دوسرے کی اولاد کو لے پالک کی حیثیت سے پالنا جائز ہے مگر وہ شرعی وارث ہرگز نہیں ہوگا۔ وہ لڑکا بالغ ہونے کے بعد غیر محرم ہی رہے گا اور جن سے پردہ شرعاً ضروری ہے پردہ کرے گا۔ ان سے بے پردگی جائز نہیں ہے۔ آپ کی بیوی اور لڑکی کے لیے غیر محرم ہی رہے گا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند