• معاشرت >> لباس و وضع قطع

    سوال نمبر: 162718

    عنوان: خارش کی وجہ سے داڑھی کٹوانا

    سوال: مفتی صاحب، کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ خارش کی وجہ سے ڈاکٹر نے داڑھی کٹوانے کوکہاہے ، یہ بیماری کئی سالوں سے ہے اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کب تک یہ بیماری ٹھیک ہوگی تو کیا ایسے حافظ کی تراویح کی امامت جائز ہے یا ناجائز؟ مقتدی حضرات کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ داڑھی والے حافظ صاحب کا نام آنے پر بھی ان کی جگہ چھین کر کسی بغیر داڑھی والے حافظ کو دے دینا کیا صحیح عمل ہے ؟

    جواب نمبر: 16271801-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:1072-848/B=10/1439

    محض خارش کی وجہ سے ڈاکٹر کے کہنے پر ڈاڑھی منڈوانا جائز نہیں، دنیا کے بڑے بڑے ڈاکٹروں کی تحقیقات پہلے آچکی ہیں کہ ڈاڑھی کی وجہ سے چہرے کی خارش دور ہوجاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج کل بہت سے غیرمسلم بھی ڈاڑھی خواہ چھوٹی سہی رکھنے لگے ہیں، بے شمار ایسی بہت سی یونانی دوائیں ہیں کہ ان کے استعمال کے بعد خارش دو رہوسکتی ہے، اگر کسی امام نے ڈاڑھی منڈوالی یا ایک مشت سے کم کٹوالی تو جب تک اس کی ڈاڑھی ایک مشت تک نہ ہوجائے اس کی امامت درست نہیں، یعنی اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوگی، بغیر ڈاڑھی والے کو امامت سپرد کرنا جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند