• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 177985

    عنوان: كوئی چیز نقد دس ہزار كی قسطوں پر بارہ یا پندرہ ہزار كی خریدنا كیسا ہے؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کے قسطوں پر کوئی سامان خریدنا کیسا ہے مثال کے طور پر بازار میں ایک چیز نقد دس ہزار کی ہے جبکہ وہ ۶ مہینوں کی قسطوں پر پندرہ ہزار یا بارہ ہزار کی مل رہی ہے اس کو خریدنا کیسا ہے ؟برا? مہربانی تفصیلا آگاہ فرمائیں۔ شکریہ و احسن الجزا

    جواب نمبر: 17798501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:558-91T/N=7/1441

    آج کل مارکیٹ میں قسطوں پر مختلف اشیا، جیسے: موٹر سائیکل، کار ، ٹریکٹر اور مکان وغیرہ کی جو خریدوفروخت ہوتی ہے، اُس میں عام طور پر کسی بینک یا فائنانس کمپنی کا واسطہ ضرور ہوتا ہے۔ اور بینک یا فائنانس کمپنی اپنے اصول کے مطابق ادھار کی مقدار اور قسطوں کی مدت کے مد نظر متعینہ انٹرسٹ لیتی ہے، یعنی: بینک یا فائنانس کمپنی ، خریدار کی طرف سے ، سامان فروخت کرنے والی کمپنی کو جو پیسہ نقد ادا کرتی ہے، وہ بینک یا فائنانس کمپنی کی طرف سے خریدار کے حق میں قرض ہوتا ہے اور بینک یا فائنانس کمپنی اُسی قرض پر متعینہ انٹرسٹ لیتی ہے ۔اور اسلام میں جس طرح سود لینا حرام ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے؛ لہٰذا کسی بینک یا فائنانس کمپنی کے واسطہ سے ادھار قسطوں پرکوئی سامان خریدنا جائز نہ ہوگا؛

    البتہ اگر کسی شخص کے پاس مطلوبہ سامان خریدنے کے لیے دیگر اخراجات سے زائد مطلوبہ مقدار میں رقم موجود ہے ؛ لیکن وہ ٹیکس ادا کردہ نہیں ہے ، یعنی: حکومت کی نظر میں غیر قانونی ہے، جس کی بنا پر اگروہ سامان نقد خریدا جائے تو انکم ٹیکس کے حوالے سے متعلقہ محکمہ کی طرف سے مختلف پریشانیوں کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں محض انکم ٹیکس کے مسائل سے بچنے کے لیے ظاہری طور پر بینک سے لون لینے کی گنجائش ہوگی؛ کیوں کہ یہاں بینک سے سودی قرض، کسی فائدے کی غرض سے نہیں لیا جارہا ہے؛ بلکہ صرف انکم ٹیکس کے مسائل سے بچنے کے لیے ، یعنی: دفع ظلم کے لیے لیا جارہا ہے ؛ اس لیے اس صورت میں انشاء اللہ گناہ نہ ہوگا(دیکھئے: فتاوی نظامیہ اوندرویہ ۱: ۲۳۳، ۲۳۴، مطبوعہ: تھانوی آفسیٹ پرنٹرس ، دیوبند، مسائل سود، مرتبہ حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن صاحب خیرآبادی دامت برکاتہم العالیہ ص ۲۴۴، ۲۴۵، مطبوعہ: حراء بک ڈپو، دیوبند)۔

    اور اگر کوئی خاص دکان دار، اپنے کسی دوست یا متعارف شخص کو ادھار قسطوں پر کوئی سامان فروخت کرے اور اُس میں کسی بینک یا فائنانس کمپنی کا واسطہ نہ ہو؛ بلکہ دکان کا مالک خود ادھار فروخت کرے اور خود ہی نقد رقم کی شکل میں یا بہ ذریعہ چیک وغیرہ اپنے اکاوٴنٹ میں قسطیں وصول کرے اور معاملہ کرتے وقت ادھار معاملہ کی قسطیں اور ان کی مدت وغیرہ سب متعین کرلی جائے تو اس طرح ادھار قسطوں پر خرید وفروخت میں شرعاً کچھ مضائقہ نہیں؛ کیوں کہ اس صورت میں سودی قرض کا معاملہ نہیں پایا جاتا اگرچہ اس صورت میں نقد کے مقابلے میں سامان کی قیمت زیادہ رکھی جائے۔

    قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵)،عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، ۲: ۷۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب البیوع، باب الربا، ۷: ۳۹۸- ۴۰۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا أو قال: إلی شہر بکذا وإلی شہرین بکذا فہو فاسد لأنہ لم یعاملہ علی ثمن معلوم ولنھي النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن شرطین في بیع ․․․ وہذا إذا افترقا علی ہذا فإن کان یتراضیان بینہما ولم یتفرقا حتی قاطعہ علی ثمن معلوم وأتما العقد علیہ فہو جائز لأنہا ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد (المبسوط للسرخسي،۱۳:۷،۸، ط: دارالمعرفة بیروت لبنان)،”المادة ۲۴۵“: البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح، ”المادة ۲۴۶“: یلزم أن تکون المدة معلومة في البیع بالتأجیل والتقسیط (مجلة الأحکام العدلیة مع شرحہا :درر الحکام لعلي حیدر، ۱:۲۲۷، ۲۲۸۔ط: دار عالم الکتب الریاض) أما الأئمة الأربعة وجہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد (بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة، ص:۷)۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند