• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 176239

    عنوان: کیا قسط پر بائک یا موبائل زیادہ قیمت میں لینا جائز ہے ؟

    سوال: کیا قسط پر بائک یا موبائل لینا جائز ہے جس میں پندرہ سے بیس ہزار روپئے زیادہ جاتے ہیں بیاج کے نام سے ؟

    جواب نمبر: 17623901-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa : 512-528/M=06/1441

    نقد کے مقابلے میں اُدھار پر خریدی گئی چیز کی قیمت مہنگی ہوتی ہے یہ عرفاً رائج ہے اور سود نہیں ہے، قسطوں پر بائک یا موبائل کی خریداری اگر اس طور پر ہو کہ عقد بیع کے وقت اُدھار یعنی قسطوں پر خریداری کا معاملہ صاف ہو جائے اور اس شیء کی پوری قیمت بھی مجلس عقد میں طے ہو جائے، معاملہ مجہول نہ رہے، اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ثمن میں مزید اضافہ نہ ہو تو اس طرح خریدنا جائز ہے۔ اور اگر خریدنے میں فائنانس کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے تو پورے معاملے کی وضاحت فرماکر سوال کرنا چاہئے۔

    ------------------------------

    جواب درست ہے۔ (س)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند