• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 176127

    عنوان: اپنے پاس مال موجود نہ ہونے کے باوجود فروختگی کا معاملہ کرنا

    سوال: کیا ایسا کاروبار کرنا جائز ہے ؟میں ایک چیز بیچ رہا ہوں لیکن وہ اس ٹائم میرے پاس موجود نہیں ہے لیکن میں کسٹمر کو بتا دیتا ہوں کہ میں یہ اتنے دنوں میں خرید کر آپ کو دے دوں گا۔ اور میں کسٹمر سے پیسے پہلے ہی چارج کروں گا۔ اگر جائز ہے تو یہ کام آن لائن ایسے کر سکتے ہیں کہ ہر پروڈکٹ کے نیچے لکھ دیں کہ ہم آرڈر دینے کے بعد یہ چیز کسی اور سے خرید کر آپ کو بھیج دیں گے ۔اور کوئی بھی خرابی ہو تو مکمل ریفنڈ۔

    جواب نمبر: 17612701-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:505-432/sn=6/1441

     اگرآپ یہ صراحت کردیں کہ یہ سامان فی الوقت میرے پاس موجود نہیں ہے؛ البتہ میں فلاں تاریخ تک مارکیٹ سے حاصل کرکے آپ کے پاس بھیج دوں گا تو اس طرح معاملہ کرنا شرعا جائز ہے ۔بس کسٹمر کے سامنے یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ آپ مارکیٹ سے جتنے میں خریدتے ہیں کسٹمر کواتنے میں نہیں ؛ بلکہ آپ اپنے ریٹ سے دیتے ہیں ۔ مستفاد: از امداد الفتاوی (3/58،سوال:61، ط: کراچی)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند