• معاملات >> بیع و تجارت

    سوال نمبر: 174965

    عنوان: ادھار خرید وفروخت سے متعلق چند اہم مسائل

    سوال: ایک مسئلہ در پیش ہے امید ہے کہ جواب دیکر ممنون فرمائیں گے، میرا لوہے کا کاروبار ہے اگر کوئی آدمی مجھے ایسا کہے کہ میں آپ کو لوہا ۶/۷ دن بعد دوں گا جب میرا مال میرے پاس ایک خاص مقدار میں جمع ہوجائے اس کے بعد لیکن مجھے ابھی پیسے کی سخت ضرورت ہے اور میرا مال اندازے کے مطابق دو لاکھ روپے کا ہوگا اگر آپ دو لاکھ روپئے اس مال کے عوض دیدے تو میں آپ کو ۲۰/۲۵ پیسے کم دام میں دوں گا مثال کے طور پر جس دن میں مال کی ڈلیوری کروں گا اس دن اگر دام ۲۲ روپے ہیں تو میں ۷۵۔۲۱ یا ۸۰۔۲۱ میں دوں گا ۔ تو میں کیا ایسا کرسکتا ہو؟ سوال : ۲ میرے اوپر ایک اور لوہے کا کاروباری ہے جس کو میں خود لوہا بیچتا ہو اگر وہ مجھ سے کہے کہ اگر تجھے روپئے کی ابھی ضرورت ہو تو میں تیرا مال ۲۲ میں خریدوں گا اور اگر چار دن بعد روپئے لے گا تو ۱۰۔۲۲ میں خریدوں گا اور اگر آٹھ دن بعد روپئے لے گا تو ۲۰۔۲۲ میں خریدوں گا۔ تو میں ایسا کرسکتا ہوں؟ سوال : ۳ مثال کے طور پر زید خریدنے والا ہے اور عمر بیچنے والا ہے عمر زید کو دام پوچھتا ہے تو ۴۰۰ روپئے کہتا ہے یعنی میں تیرا لوہا ۴۰۰ میں خریدوں گا لیکن روپئے ۷/۸ دن بعد دینے کو کہتا ہے جبکہ دوسرے کاروباری عمر کے مال کو ۳۹۱/۳۹۲ روپے نقد میں خریدنے تیار ہیں ۔ اب عمر بکر کے پاس جاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میرا مال زید ۴۰۰ میں ادھار خریدنے تیار ہے اور دوسرے کاروباری ۳۹۲/۳۹۱ روپے نقد میں خریدنے تیار ہیں اگر بکر تو میرا ۳۹۵ روپئے میں خرے گا اور پھر زید کو بیچے گا تو تجھے ایک کلو پر ۵ روپئے فائدہ ہوگا تو کیا عمر کا ایسا کرنا صحیح ہے؟

    جواب نمبر: 17496501-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:255-40T/N=4/1441

    (۱): صورت مسئولہ میں لوہے کی خریداری سے پہلے جو پیسے دیے جارہے ہیں، مختلف قرائن وشواہد کی روشنی میں اُن کی حیثیت شرعاً قرض کی ہے؛ کیوں کہ یہ استصناع یا سلم کا معاملہ نہیں ہے، اور آئندہ۶یا ۷/ دن بعد کی خریداری میں فی کلو ۲۰یا ۲۵/ پیسے کی جو رعایت مل رہی ہے، وہ اِسی قرض کا نفع ہے، اور قرض کا نفع سود ہوتا ہے ؛ لہٰذا سوال میں مذکور معاملہ شرعاً درست نہ ہوگا۔

    قال اللّٰہ تعالی:وأحل اللہ البیع وحرم الربا الآیة (البقرة: ۲۷۵)،عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہما قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا وموٴکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء (الصحیح لمسلم، ۲: ۷۲، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، الربا فضل خال عن عوض بمعیار شرعي مشروط لأحد المتعاقدین في المعاوضة (تنویر الأبصار مع الدر والرد، کتاب البیوع، باب الربا، ۷: ۳۹۸- ۴۰۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    (۲): شریعت میں جس طرح نقد خرید وفروخت جائز ہے، اِسی طرح ادھار بھی جائز ہے بہ شرطیکہ خود بیچنے والا ادھار کرے، کوئی بینک یا فائنانس کمپنی درمیان میں ہوکرادھار نہ کرے؛ لہٰذا اگر آپ کسی شخص کو ادھار لوہا فروخت کریں اور مجلس عقد میں باہمی رضامندی سے فروخت کردہ لوہے کی مکمل قیمت اور ادائیگی کی مدت وتاریخ یا ادائیگی کی تمام قسطیں مع مقدار ومدت متعین کرلیں، اگر، مگر کا غیر متعینہ معاملہ نہ رہے تو اس میں کچھ حرج نہیں، اور اس طرح ادھار میں سامان کی قیمت میں جو اضافہ ہوتا ہے ، وہ قیمت ہی کا حصہ ہوتا ہے، سود نہیں ہوتا، جیسے: ہول سیل میں سامان کا ریٹ کم ہوجاتا ہے اور پھٹ کر میں زیادہ یا شہر اور بڑی مارکیٹ میں سامان کا ریٹ کم ہوتا ہے اور محلہ کی دکان میں زیادہ۔

    وإذا عقد العقد علی أنہ إلی أجل کذا بکذا وبالنقد بکذا أو قال: إلی شہر بکذا وإلی شہرین بکذا فہو فاسد؛ لأنہ لم یعاملہ علی ثمن معلوم، ولنھي النبي صلی اللہ علیہ وسلم عن شرطین في بیع…وہذا إذا افترقا علی ہذا، فإن کانا یتراضیان بینہما ولم یتفرقا حتی قاطعہ علی ثمن معلوم وأتما العقد علیہ فہو جائز؛ لأنہا ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد (المبسوط للسرخسي،۱۳:۷،۸، ط: دارالمعرفة بیروت لبنان)،”المادة ۲۴۵“: البیع مع تأجیل الثمن وتقسیطہ صحیح، ”المادة ۲۴۶“: یلزم أن تکون المدة معلومة في البیع بالتأجیل والتقسیط (مجلة الأحکام العدلیة مع شرحہا :درر الحکام لعلي حیدر، ۱:۲۲۷، ۲۲۸۔ط: دار عالم الکتب الریاض)، أما الأئمة الأربعة وجمہور الفقہاء والمحدثین فقد أجازوا البیع الموٴجل بأکثر من سعر النقد بشرط أن یبتّ العاقدان بأنہ بیع موٴجل بأجل معلوم بثمن متفق علیہ عند العقد (بحوث فی قضایا فقہیة معاصرة، ص:۷)، وصح بثمن حال وھو الأصل وموٴجل إلی معلوم؛ لئلا یفضي إلی النزاع (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب البیوع، ۷: ۵۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

    (۳):صورت مسئولہ میں جواب سے پہلے چند باتیں وضاحت طلب ہیں، جو حسب ذیل ہیں:

    الف: زید لوہے کی خرید وفروخت کا معاملہ عمر سے کرے گا یا بکر سے؟

    ب: اگر بکر سے کرے گا تو بکر، عمر سے لوہا خرید کر اس پر قبضہ کرے گا یا نہیں؟

    ج: اگر قبضہ کرے گا تو اس کی نوعیت کیا ہوگی؟

    د: اگر بکر عمر سے لوہا خریدلے، پھر زید بکر سے لوہا خریدنا نہ چاہے تو بکر زید پر کوئی جبر تو نہیں کرے گا؟۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند